“اُونٹ والی چٹان”

ریاض:سعودی عرب کے شمال مغربی ضلع الوجہ میں واقع “اُونٹ والی چٹان” اپنی نوعیت کا ایک انوکھا قدرتی مجسم فن پارہ ہے۔ اس کے زاویے سیاحوں، محققین اور دل چسپی رکھنے والوں کے لیے پُر کشش اور دل فریب نظارہ پیش کرتے ہیں۔
سعودی میڈیا کے مطابق اونٹ والی چٹان کے بلند ترین نقطے پر اس کی اونچائی آٹھ میٹر تک جا پہنچتی ہے۔ کئی برس تک بُردگی اور شکست و ریخت کے عوامل کے سبب اس چٹان کے خدوخال ایک ایسے اونٹ سے مشابہت رکھتے ہیں جو اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا ہو۔
مملکت میں ارضیاتی سروے کی جنرل اتھارٹی کے مطابق الوجہ شہر سے 5 کلو میٹر جنوب میں واقع “اونٹ والی چٹان” چُونے کے پتھر سے بنی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ مملکت کا الوجہ ضلع اپنے قدرتی اور تاریخی ورثے کے سبب معروف ہے۔ بحر احمر کے ساحل پر پھیلے ہوئے اس ورثے نے الوجہ کو سیاحوں کے لیے پُر کشش علاقوں میں سے ایک اہم مقام بنا دیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ویژن 2030 کے ضمن میں اعلان کردہ بحر احمر اور آمالا کے دو منصوبوں نے اس علاقے کی اہمیت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں