کرونا وائرس ووہان کی پیداوار نہیں بلکہ درآمد شدہ ہے، رپورٹ

وائرس سے متاثرہ افراد تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں،دنیا چین کے عملی اقدامات سے سبق حاصل کرے
بیجنگ :ناول کورو نا ویرس کے 93 نمونوں سے جینومک ڈیٹا کی تحقیق اور تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ یہ وائرس ووہان میں نہیں پیدا ہوا بلکہ کہیں سے درآمد ہوا ہے،ووہان صرف پھیلائو کا سبب بنا ہے، اس کی تصدیق دیگر 73ممالک بھی کر چکے ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا کے پبلک ہیلتھ حکام کو تشویش لاحق ہے،خوشی کی خبر یہ ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں،کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں سے بھرے اسپتال اب کافی حد تک خالی نظر آتے ہیں، چین سے باہر کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں نو گنا اضافہ ہوا ہے جو تشویشناک ہے، ڈبلیو ایچ او اور چینی سائنسدانوں کی مشترکہ کاوشیں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں، وبا پر قابو پانے میں چینی قوم نے انتہائی جراتمندانہ کردار ادا کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ناول کورو نا ویرس کے 93 نمونوں سے جینومک ڈیٹا کی تحقیق اور تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ یہ وائرس ووہان میں نہیں پیدا ہوا بلکہ کہیں سے درآمد ہوا ہے،ووہان صرف پھیلائو کا سبب بنا ہے، اس کی تصدیق دیگر 73ممالک بھی کر چکے ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا کے پبلک ہیلتھ حکام کو تشویش لاحق ہے،خوشی کی خبر یہ ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ میڈیا بریفنگ میں ، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گھبریئسس نے کہا کہ چین میں 22 جنوری کے بعد رواں ہفتے سب سے کم کیس رپورٹ ہوئے ۔ تاہم ملک کے اندر کی رپورٹس کے مقابلے میں چین سے باہر کیسوں کی تعداد میں نو گنا اضافہ ہوا ہے۔ وبا کے کنٹرول کیخلاف چینی حکومتی اقدامات جارحانہ رہے ہیں جسکی وجہ سے اس پر جلدی قابو پانا ممکن ہوا۔ 28 فروری کو ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او )نے ایک مشن کا اہتمام کیا جس میں چینی حکومت نے 13 غیر ملکیوں اور 12 چینی سائنس دانوں کو چین کے پانچ شہروں کے دورے پر جانے کی اجازت دی تاکہ وہ کروناوائرس کی وبا ور اس کی تاثیر کا مطالعہ کرسکیں جس کے کا جواب میں ان نتائج سے آنے والے متعدد سائنسدانوں کو حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق مشترکہ مشن انتہائی نتیجہ خیز تھا اور اس نے وائرس کو سرزمین چین اور عالمی سطح پر پھیلنے سے روکنے کے لئے چین کی کوششوں کو ایک انوکھی بصیرت بخشی۔ خوشی کی خبر یہ ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں،کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں سے بھرے اسپتال اب کافی حد تک خالی نظر آتے ہیں، چین سے باہر کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں نو گنا اضافہ ہوا ہے جو تشویشناک ہے۔اب سوال یہ ہے کہ چاہے دنیا چین کی کامیابی سے سبق لینے کے لئے تیار ہے۔ کیا چینی حکومت کی طرف سے عائد بڑے پیمانے پر لاک ڈائون اور الیکٹرانک نگرانی کے اقدامات کی طرح دوسرے ممالک کام کریں گے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں