یورپ کا خلائی جہاز سولر اوربیٹر روانہ

سورج ویسے تو ہم سے قریب ترین ستارہ ہے لیکن اب بھی اس کے بارے میں بہت کچھ ہے جو سائنسدان جاننا چاہتے ہیں، اور اسی مقصد کے لیے یورپ نے ایک نیا خلائی جہاز سورج کی جانب روانہ کر دیا ہے۔

سورج کے مدار میں بھیجا گیا یورپ کا یہ سولر اوربیٹر سورج کا قریبی جائزہ لے گا۔

ڈیڑھ ارب یورو (1.3 ارب پاؤنڈ) کی لاگت سے تیار ہونے والے اس خلائی جہاز میں ایسے کیمرے اور سینسر نصب ہیں جو ممکنہ طور پر ہمارے ستارے کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کریں گے۔

سائنسدان یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ سورج میں اتنی تبدیلیاں کیوں واقع ہوتی رہتی ہیں۔

اس خلائی جہاز کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کیپ کیناویرل سپیس سینٹر سے اٹلس راکٹ پر عالمی وقت کے مطابق صبح کے چار بج کر تین منٹ پر لانچ کیا گیا۔

سورج کبھی کبھی اچانک اربوں ٹن مادہ اور پیچیدہ مقناطیسی لہریں خارج کر دیتا ہے جس سے زمین پر بھی اثرات پڑتے ہیں۔ اس عمل کو شمسی طوفان کہا جاتا ہے۔

بدترین شمسی طوفان کے دوران سیٹلائٹس پر موجود الیکٹرونک آلات ٹرپ ہوجاتے ہیں، رابطوں میں خلل پڑتا ہے، اور یہ بجلی کے گرڈز کو بھی وقتی طور پر بند کر سکتا ہے۔

محققین کو امید ہے کہ سولر اوربیٹر سے حاصل ہونے والی معلومات سے شمسی طوفانوں کی پیشگوئی کرنے والے ماڈلز میں بہتری لائی جا سکے گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ خلائی جہاز یورپی خلائی ادارے (ای ایس اے) کا پروجیکٹ ہے لیکن اس میں امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھی حصہ لیا ہے اور اسے لانچ کرنے کا بیڑہ بھی امریکیوں نے ہی اٹھایا۔

سولر اوربیٹر کو ایسے راستے پر ڈالا جائے گا جو اسے بتدریج سورج کی سطح سے صرف چار کروڑ 20 لاکھ کلومیٹر (دو کروڑ 60 لاکھ میل) کے فاصلے تک لے جائے گا۔

یہ سیارہ عطارد (مرکری) سے بھی زیادہ قریب ہے جہاں پہلے ہی درجہ حرارت بے انتہا زیادہ ہے۔

اور سورج کی شدید حدت سے بچے رہنے کے لیے خلائی جہاز کو ایک بڑی سی ٹائٹینیئم کی ڈھال کے پیچھے رہنا پڑے گا۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں