یاداشت بہتر بنانے کے پانچ نسخے

یاداشت بہتر بنانے کے پانچ نسخے
اکثر ہم اپنی یاداشت کمزور ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ چیزیں خریدنے بازار جاتے ہیں تو یہی بھول جاتے ہیں کہ خریدنا کیا تھا۔

امتحان کے لیے اچھی طرح تیاری کرنے کے باوجود جب جواب لکھنے بیٹھے تو آدھا بھول گئے۔ کبھی کسی سے کافی عرصے بعد ملاقات ہوئی تو اس کا نام ہی بھول گئے۔

ایک کمرے سے اٹھ کر کسی کام کے لیے دوسرے کمرے میں گئے لیکن وہاں پہنچنے کے بعد بھول گئے کہ کس کام کے لیے آئے تھے۔

سائنسدان کئی دہائیوں سے یاداشت کو بہتر بنانے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ حالیہ تحقیق میں کچھ چیزوں کا انکشاف ہوا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ان نسخوں کو آزما کر ہم اپنی یادداشت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

ماضی کو بھی یاد کریں
اکثر یہ کہاوت دہرائی جاتی ہے کہ پرانی باتوں کو بھول کر آگے بڑھیں لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ پرانی باتوں کو دہرانے سے ہماری یاداشت بہتر ہوتی ہے۔

حال ہی میں ہونے والی کئی تحقیقات یہ اشارے دیتی ہیں کہ جب ہم پرانے تجربوں کو اپنے ذہن میں دہراتے ہیں تو ان کی یادیں مضبوطی سے ہمارے ذہن میں رجسٹر ہو جاتی ہیں تو آپ بھی یاد رکھیں کہ آگے کی سوچ رکھنے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی پیچھے مڑ کر بھی دیکھیں۔

تصاویر بنائیں
جب ہم خریداری کے لیے نکلتے ہیں تو ہم اکثر سامان کی ایک فہرست بناتے ہیں لیکن اگر آپ اپنی یادداشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو سامان کے نام لکھنے کے بجائے، ان کی تصاویر بنائیں۔ جو لوگ یہ کرتے ہیں، ان کی یاداشت کی طاقت میں بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔ یہاں تک کہ ڈیمینشیا جیسی بیماری کے مریضوں کو بھی اس سے فائدہ ہوتا ہے۔

سائنسدان کہتے ہیں کہ جب ہم تصویر بناتے ہیں تو ہم اس چیز کی شکل کی نوعیت کے بارے میں زیادہ گہرائی سے سوچتے ہیں۔ لہٰذا ہمارا دماغ اس یادداشت کو اچھی طرح سے بچا کر رکھتا ہے۔ آپ اس نسخے کو آزما کر بھی اپنی یادداشت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

ورزش کریں لیکن صحیح وقت پر
یہ متعدد بار ثابت ہوا ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے یاداشت بہتر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر باقاعدگی سے دوڑنے سے یاداشت بہتر ہوتی ہے۔ تاہم اب محققین کہتے ہیں کہ اس کے لیے صحیح وقت کا ہونا ضروری ہے۔ تاہم یہ وقت کیا ہونا چاہیے سائنسدان ابھی تک اس پر تحقیق کر رہے ہیں۔

کچھ نہ کریں دماغ کو آرام دیں
ہیریٹ واٹ یونیورسٹی کی مائکیلا ڈیور نے اس پر ایک تحقیق کی۔ انھوں نے پایا کہ اگر صحت مند افراد کسی چیز کو یاد رکھنے کے فوراً بعد وقفہ لیتے ہیں تو انھیں وہ چیزیں زیادہ یاد رہ جاتی ہیں۔

لہٰذا، آپ بھی کوشش کریں کہ کچھ پڑھنے اور تحریر کرنے کے بعد ذہن کو کچھ وقت کے لیے خاموش چھوڑیں۔ کچھ نہ کریں۔ یہ آپ کی یادداشت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گا۔

تھوڑے دورانیے کے لیے سو جائیں
اگر آپ کو اپنی یاداشت کو بہتر بنانے کے لیے یہ چار نسخے بھاری لگتے ہیں تو یہ نسخہ آزمائیں۔ تھوڑی دیر کے لیے سو جائیں۔

ایسی بہت ساری تحقیقات موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوا ہے کہ جھپکی لینے سے ہماری یادداشت مضبوط ہوتی ہے۔ لیکن اس کی ایک شرط ہے۔ دراصل وہی لوگ اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو باقاعدگی سے یہ کام کرتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ لمبے وقت تک جھپکی لینے کی عادت ڈالیں تو یاداشت کو بہتر بنانے میں صرف آپ کو ہی فائدہ ہو گا۔

بہرحال کارپوریٹ دنیا میں ’پاور نیپ‘ یعنی کم دورانیے کے لیے آرام کرنا کافی عام ہے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں