سندھ ہائی کورٹ نے نیب کی خورشید شاہ کی ضمانت کے خلاف دائر درخواست نمٹادی

سکھر:سندھ ہائی کورٹ نے نیب کی خورشید شاہ کی ضمانت کے خلاف دائر درخواست نمٹادی،خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کا حکم کالعدم قرار دے دیاتفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نیسکھر کی احتساب عدالت کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے اسیرمرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ کی پچاس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عیوض ضمانت پر رہائی کے حکم کے خلاف قومی احتساب بیورو سکھر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی سماعت کے دوران خورشید شاہ کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر پیش ہوئے اور دلائل دیئے نیب پراسیکیوٹر نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ خورشید شاہ اور ان کے 18 ساتھیوں کے خلاف ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد آمدن کے اثاثے بنانے کا ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے اور ملزم اس وقت گرفتار ہے جبکہ خورشید شاہ کے وکیل مکیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے خورشید شاہ کی ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کررکھی ہے اب تک نیب ملزم پر الزام ثابت نہیں کرسکی ہے عدالت عالیہ نے کافی دیر تک دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت کی جانب سے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ کو پچاس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عیوض دی گئی ضمانت کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا اور نیب کی درخواست نمٹادی واضح رہے کہ پیپلزپارٹی رہنما کو سکھر کی احتساب عدالت نے 17 دسمبر کو سماعت کے دوران ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن ان کو رہائی نصیب نہ ہوسکی اور نیب نے ان کی ضمانت پر رہائی کے حکم کو سندھ ہائی کورٹ کراچی میں چیلنج کیا اور اس کے خلاف درخواست دائر کی تھی جسے سندھ ہائی کورٹ کراچی نے سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کو شفٹ کردیا تھا جس پر آج عدالت عالیہ نے فیصلہ سنا دیا پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر سکھر کی این آئی سی وی ڈی اسپتال میں زیر علاج ہے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں