خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائداثاثہ کیس کی سماعت 9 مارچ تک ملتوی

سکھر :احتساب عدالت سکھر نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئررہنما خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائداثاثہ کیس کی سماعت 9 مارچ تک ملتوی کر دی۔
سکھر کی نیب عدالت میں آمدن سےزائداثاثہ جات ریفرنس پر خورشید شاہ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی ۔ خورشید شاہ سمیت دیگر 18 افراد کے نام بھی ریفرنس میں شامل ہیں ۔ سماعت کے موقع پر این آئی سی وی ڈی اسپتال سکھر میں زیرِ علاج خورشید شاہ کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال سے عدالت لایا گیا ۔ عدالت کی جانب سے گرفتاری وارنٹ کے باوجود ملزم جنید قادر شاہ پیش نہ ہوئے۔ خورشید شاہ کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ جنید قادر شاہ ابھی تک وطن واپس نہیں آئے۔ عدالت نے سماعت کے دوران خورشید شاہ اور دیگر ملزمان کے وکلاء اور نیب پراسیکیوٹر کے مختصر دلائل سننے کے بعد ریفرنس کی سماعت 9 مارچ تک ملتوی کر دی۔
پیشی کے موقع پر میڈیا سے با ت کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آٹا،چینی پر کوتاہی تسلیم کی ۔اپوزیشن کو مہنگائی کا مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھانا چاہئیے۔ خورشیدشاہ نے آٹا ،چینی بحران پرعمران خان سے استعفی ٰ کا مطالبہ کردیا۔
گزشتہ سماعت میں نیب راولپنڈی کو تحقیقات کرنے کی اجازت دی گئی تھی جس کے بعد سے تفتیش جاری ہے جبکہ چئیرمین نیب کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی کی بھی تفتیش جاری ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں90روز میں ریفرنس دائر نہ ہونے پرعدالت نے پی پی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 50 لاکھ رپے کے مچلکے بھی جمع کرانے کا حکم دیا تھا تاہم خورشید شاہ کی رہائی کیخلاف نیب کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کا حکم آئندہ سماعت تک معطل کر دیا اور سماعت 16 جنوری2020 تک ملتوی کر دی تھی۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں