چیف سیکرٹری سندھ کی زیر صدارت اجلاس

2013 ایکٹ کے تحت ریگیولر ہونے کیلئے ملازمین کی درخواستوں کا جائزہ لیا گیا
کراچی:چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 2013 ایکٹ کے تحت ریگیولر ہونے کے لئے ملازمین کی درخواستوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیئر میمبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز، سیکریٹری اطلاعات احمد بخش ناریجو، سیکریٹری سروسز نوید احمد شیخ، سیکریٹری لیبر عبدالرشید سولنگی، سیکریٹری زراعت عبدالرحیم سومرو، سیکریٹری ایکسائیز عبدالحلیم شیخ سمیت تمام محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے تمام متعلقہ سیکریٹریز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جن ملازمین کو ریگیولر نہیں کیا جا سکتا ان کی تفصیل کورٹ کو فراہم کی جائے اور قانون کے مطابق تمام کانٹریک ملازمین کے اپیل کا فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ سیکریٹری اور ڈپٹی کمشنر اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس بلا کر معاملات حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ کورٹ میں وقت پر کمینٹس فائل کئے جائیں اور تمام سیکریٹری اپنے دفاتر میں عوام سے ملیں اور مسائل حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ سٹیزن پورٹل پر موصول ہونے والی شکایات کا ازالہ کیا جائے۔ اجلاس میں سیکریٹری سروسز نوید احمد شیخ نے بریفنگ میں بتایا کہ ورکس اینڈ سروسز میں 36، اسکول ایجوکیشن میں 380, اطلاعات میں 1، صحت میں 77 ریگیولرائیزیشن کی اپیلیں ہیں۔ محکمہ زراعت میں 5، بی بی ایس ایچ آر ڈی بی میں 90، روینیو میں 9، اینٹی انکروچمنٹ میں 90 اور محکمہ ثقافت میں 4 اپیلیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقراء یونیورسٹی کے ذریعے بھرتی کا معاملہ سندھ کابینہ کے ایجنڈے میں رکھا گیا ہے۔چیف سیکریٹری سندھ نے مزید کہا کہ ملازمین کی ملازمت کے حوالے سے فیصلہ سازی کو وقت پر کیا جائے۔ قانون کے مطابق جن ملازمین کی سروسز ریگیولر کی جا سکتی ہے انکو ریگیولر کیا جائے اور جن میں قانونی پیچیدگی ہے ان درخواستوں پر بھی محکمہ قانون اور محکمہ سروسز سے ایڈوائز لے کر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔چیف سیکریٹری نے تمام سیکریٹریز کو کہا کہ وہ وقت کی پابندی کو یقینی بنائیں اور اپنے ماتحت ملازمین کو بھی وقت کی پابندی کا پابند کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکریٹری اپنے دفاتر میں عوام سے ملیں اور ان کے جائز مسائل کو حل کریں جو درخواست اور شکایات سٹیزن پورٹل کے زریعہ موصول ہوئے ہیں انکو بھی فورا حل کیا جائے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں