لاہور ہائیکورٹ کا شہر میں پلاسٹک بیگز استعمال کرنے والے اسٹورز سیل کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا شہر میں پلاسٹک بیگز استعمال کرنے والے اسٹورز سیل کرنے کا حکم
پلاسٹک بوتلوں میں پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کو بھی نوٹسز جاری
لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے شہر میں پلاسٹک بیگز استعمال کرنے والے اسٹورز سیل کرنے کا حکم د یتے ہوئے پلاسٹک بوتلوں میں پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کو بھی نوٹسز جاری کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے پلاسٹک بیگز کے استعمال اور بوتلوں کی فروخت سے متعلق شہری کی درخواست پر سماعت کی۔ پلاسٹک بیگ پر پابندی سے متعلق پنجاب حکومت کے وکیل انیس ہاشمی نے محکمہ ماحولیات کی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ متعدد بیکریاں اور سرکاری یوٹیلیٹی اسٹورز بھی عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔ اس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جو اسٹور پلاسٹک بیگز استعمال کر رہے ہیں ان کو سیل کر دیں، اگر ان کو خود خیال نہیں ہے تو انہیں کاروبار سے نکال دیا جائے، مذکورہ اسٹورز اور بیکرز عملدرآمد کا بیان حلفی دیتے ہیں، انہیں صرف 7 روز تک کا وقت دیں۔ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ پلاسٹک بوتلوں میں پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کو بھی نوٹسز جاری کر رہا ہوں، ساری دنیا میں پلاسٹک بوتل میں پانی بیچنا ترک کیا جاچکا ہے، پوری دنیا میں اب پانی شیشے کی بوتلوں میں بیچا جا رہا ہے، پلاسٹک بوتلز میں پانی بیچنے والے یونٹس سب سے بڑے جرم دار ہیں، اگلے مرحلے میں ریسٹورنٹس اور بیکرز کی طرف جائیں گے۔ اس موقع پر سرکاری وکیل نے کہا کہ صارفین کی طرف سے واویلا کیا جاتا ہے کہ انڈے کیسے لیکر جائیں، جسٹس شاہد نے ریمارکس دیے کہ صارفین کو کوئی علم نہیں، عدالت نے ماحول دشمن اشیا کا خاتمہ کروانا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے پلاسٹک بیگز استعمال کرنے والے اسٹورز اور مختلف بیکریوں کو سیل کرنے کا حکم دیا جب کہ عدالت نے شادمان ٹان کے ایک بڑے اسٹور کو بھی سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔علاوہ ازیں عدالت نے پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی کی فروخت پر مختلف مشروب ساز فیکٹریوں کو بھی نوٹس جاری کردیئے اور درخواست پر مزید سماعت 6 مارچ تک ملتوی کردی۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں