اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ

اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میںاضافے کے بل پیش کرنے کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد
اسلام آباد: سینیٹ میں چیئرمین سینیٹ اسپیکر قومی اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میںاضافے کے بل پیش کرنے کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں ، تحاریک کے حق میں 16جبکہ مخالفت میں 29ووٹ آئے ، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے ارکان نے بل کی مخالفت کی ، سینیٹر اشوک کمار، دلاور خان اور سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے بل پر خفیہ رائے شماری کرانے کا مطالبہ کیا سینیٹر منظور احمد نے کہا کہ آج خفیہ رائے شماری کرا لیں تو 104 ووٹ بل کے حق میں آئیں گے، اس بل پر پوائنٹ اسکورنگ کی جارہی ہے، جبکہ سینیٹر رحمان ملک نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم ،وزرا ء اور پارلیمنٹرینز کی تنخواہوں کو مزدور کی تنخواہ کے برابر کیا جائے۔پیر کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے چیئرمین سینیٹ ، اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق بل چیئرمین، اسپیکر (تنخواہیں، الائونسز اور مراعات)(ترمیمی)بل 2020 پیش کرنے کی تحریک پیش کی ، انہوں نے کہا کہ یہ بل اس لیئے لایا ہے کہ اس بل کی بڑی اہمیت ہے ملک میں بڑے دو عہدے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کے ہیں جو قانون پاس کراتے ہیں ، اتھارٹیز کے سربراہوں کی تنخوا سات سے آٹھ لاکھ روپے ہے ، چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ دو لاکھ سے زیادہ نہیں ہو گی ، جبکہ چیئرمین سینیٹ ایک لاکھ رینٹ دیتے ہیں اس بل سے چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ بڑھائی جائے ان کا حق بنتا ہے کہ ان کو زیادہ تنخواہ دی جائے ،وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے کہا کہ حقائق دیکھے جائیں تو یہ صحیح کہہ رہے ، پورا سسٹم نانصافی پا مبنی ہے آج جو مہنگائی کے حالات ہیں اس بل پر بحث ہونا چاہیئے ، پارلیمنٹ کا ہر ممبر امیر نہیں ہے ، ان بلز کو قومی اسمبلی سے شروع ہونا چاہیئے،منی بل کی شروعات ایوان بالا سے نہیں کی جاسکتیں، اس وقت معاشی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے ،سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ یہ وقت مناسب نہیں ہے، جس طرح وزیر اعظم نے سادگی مہم کا اپنے آپ سے آغاز کیا، جب تک مزدور کی آمدنی نہیں بڑھ جاتی تب تک ہمیں اپنی تنخواہ کو بالکل نہیں بڑھانا چاہیے،وزیر اعظم نے اپنی تنخواہ نہیں بڑھائی جبکہ دوروں میں ریکارڈ کمی لائی ، سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ابھی جو تنخواہیں مل رہی ہیں اسی میں گزارا کریں ، سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ سینیٹ پارلیمنٹ کا حصہ ہے،یہاں امیر کبیر لوگ بھی ہیں اور میرے جیسے مزدور لوگ بھی ہیں ، جنہوں نے تنخواہ نہیں لینی بالکل نہ لیں فیصل جاوید جو تنخواہ اور ٹی اے ڈی اے رہے ہیں وہ بھی ایدھی فنڈ یا کسی اور فنڈ میں دے دیں۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس بل کی واضح طور پر مخالفت کرے گی، پارلیمنٹ کی تنخواہیں خطے میں سب سے کم ہیں یہ بات صحیح ہے، بہت سے ارکان کے لیئے اس تنخواہ میں گزارا کرنا مشکل ہوتا ہے، پارلیمان کا کردار عوام کا مقدمہ لڑنا ہوتا ہے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ عوام بجلی گیس کے بل نہیں دے پا رہے ، ہم اس کی بل کی مخالفت کرتے ہے ،سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ اس بل کے حوالے سے اکثریت چاہتی ہے کہ تنخواہ بڑھے، بعض لوگ دل میں خوش ہیں لیکن اس پر سیاست کر رہے ہیں،ججز کی تنخواہ کیوں زیادہ ہے؟ الیکشن کمیشن کی تنخواہیں بھی زیادہ ہیں، بعض سینیٹرز ارب پتی بھی ہیں لیکن وہ یہ ڈیڑھ لاکھ بھی نہیں چھوڑ رہے ، ہم 17 گریڈ کے افسر کی تنخواہ بھی نہیں لے رہے ، اعظم سواتی صاحب ساری پارلیمنٹ کوپال سکتے ہیں، تنخواہ بڑھانی چاہیئے، میڈیا اس حوالے سے ہماری رہنمائی نہ کرے ، میڈیا کے اینکر 60 لاکھ تنخواہ لیتے ہیں وہ کم کر کے عوام کو دے دیں،50 لاکھ روپے لینے والے پارلیمنٹرینر کی تنخواہ پر بات کر رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہاکہ مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ، عوام جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دے رہے ہیں، سفید پوش لوگ بھی پریشانی میں آئے ہوئے ہیں ، اپنی بات پہلے نہ کریں قوم کی بات کریں ، سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ حکومتیں سبسڈی دیتی ہیں لیکن سبسڈی واپس لے لیں گئی ہیں ، خزانے عوام کے لیئے ہوتے ہیں ، لوگ چیخ رہے ہیں مہنگائی کی وجہ سے تنگ ہیں ، انہوں نے کہا کہ تنخواہیں نہیں بڑھنی چاہیئں، میرا بھی اسی تنخواہ سے گزارا ہوتا ہے ، تنخواہوں کے اصول آج تک بنائے ہی نہیں گئی ، چند مہینوں میں آٹے چینی کی قیمت بڑھ گئی ہیں ادویات کی قیمتیں بڑھ گئیں ، ملازمین کی تنخواہیں بھی بڑھائی جائیں، میڈیا میں چھ چھ مہینے تنخواہ نہیں دی گئی ،سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ پارلیمنٹرینز کی تنخواہیں کیوں کم ہیں باقی اداروں کی زیادہ کیوں ہیں ، کرپشن رشوت لینے کے بجائے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں، تنخواہیں سب کی بڑھنی چاہئیں، بنیادی تنخوا سونے کے ایک تولے کے برابر ہونی چاہیئں، تنخواہیں بڑھیں گی تو کرپشن کا دروازہ بند ہو جائے گا، سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ چیئرمین صاحب آپ بڑے خوش نظر آرہے ہیں لیکن تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوگا، وزیر اعظم کا خاندان دو افراد پر مشتمل ہے ان کا گزارا مشکل ہے تو 17 ہزار روپے والے کا گزارا کیسے ہوگا ،سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ کام کرنے کے لیئے تنخواہ کی ضرورت ہے ، باقی لوگ تنخواہ لے رہے ہیں تو پارلیمنٹرینز کا بھی حق ہے ،باقی محکموں کی تنخواہیں کتنی ہیں ، سب سے پہلے مزدوروں کی تنخواہ بڑھائی جائے، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ میں بل کی مخالفت کرتاہوں صدر کی آٹھ لاکھ تنخواہ ظلم ہے ، جن کی تنخواہیں بڑھی ہوئی ہیں ان کی کم کی جائیں ، سینیٹر مہر تاج روغانی نے کہا کہ غریبوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے ، سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ کاروبار کرنا اس وقت ملک میں مشکل ترین کام ہے ، بہت سے ارکان اپنی تنخواہ کسی مستحق کو دیتے ہیں ، سفید پوش بھی ہیں جن کے لیئے ضروری ہے تنخوا بڑھائی جائے سینیٹر سیمی ایزدی نے کہا کہ سیشن جج کی ہم سب سے زیادہ تنخواہ ہے ، ایوان بالا کی تنخواہ سپریم کورٹ کے جج کے برابر ہونی چاہیئے، لیکن اس وقت غریبوں کی تنخواہیں بڑھائی جائیں، اپنی تنخواہ کے لیئے انتظار کیا جائے ، سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ تنخواہ بڑھے نہ بڑھے وہ ٹیکہ مل جائے اور مجھے لگ جائے جس سے مجھے روپیہ ڈالر کی شکل میں نظر آئے ، اگر وہ نہیں ہے تو ایسے دوست ہی لا کر دیں جو ہم ہر خرچہ کر دیں جو جہازوں میں لے کر پھرا کریں، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا کوئی دوست نہیں ہوتا جو اخراجات اٹھائے، جو دوست اخراجات اٹھائیں گے تو قوم کو آپ کے دوستوں کے اخراجات اٹھانے پڑیں گے ، دوستوں نے دو روٹیاں پکوائیں اور پوری قوم کی روٹیاں کھا گئے، دوست اسی وقت تک ہوتے ہیں جب تک آپ وزیر اعظم ہوں، سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ لوگ فاقوں میں زندگی گزارتے ہیں،تین تین ملین لوگ لے رہے ہیں ،سیکورٹی گارڈ کو 8 ہزار تنخواہ دی جارہی ہے ،اینکر ایک کروڑ ایک پروگرام کا لیتے ہیں وہ بل کے بارے میں بات کرہے ہیں،سینیٹر آصف کرمانی نے کہا کہ میں بل کی مخالفت کرتا ہوں ، پی سی بی کے چیئرمین کی لاکھوں تنخواہ ہے اس کی کوئی وضاحت ہے ؟ ،سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ یہ بل بہت پہلے آنا چاہیے تھا، سندھ میں تین سو فیصد تنخواہیں بڑھائی گئی ہیں ، وہاں غریب آپ کو یاد نہیں ہے، کنٹینر پر کہتے تھے بل جلا دو آج کیوں نہیں کہتے، آج خفیہ رائے شماری کرا لیں تو 104 ووٹ بل کے حق میں آئیں گے، اس بل پر پوائنٹ اسکورنگ کی جارہی ہے، سینیٹر اشوک کمار نے کہا کہ خفیہ رائے شماری کرائیں تو 99 فیصد ارکان بل کے حق میں ووٹ کریں گے ، سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ وزیراعظم ،وزرا ء اور پارلیمنٹرینز کی تنخواہوں کو مزدور کی تنخواہ کے برابر کیا جائے۔سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ غریبوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے،سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ خفیہ رائے شماری کرائی جائے تو 104 ووٹ بل کے حق میں پڑیں گے، اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے بل پیش کرنے کی تحریک پر رائے شماری کرائی جس پر بل کے حق میں 16اور مخالفت میں 29ووٹ پڑے ، بعد ازاں تنخواہوں میں اضافے کے بلوں کی دیگر دو تحاریک بھی کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں ۔سینیٹ میں مسلم لیگ(ن) کے رہنماء سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ تنخواہ بڑھے نہ بڑھے وہ ٹیکہ مل جائے جس سے مجھے روپیہ ڈالر کی شکل میں نظر آئے۔پیر کو سینیٹ اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق بل پر بحث کے دوران سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ تنخواہ بڑھے نہ بڑھے وہ ٹیکہ مل جائے جس سے مجھے روپیہ ڈالر کی شکل میں نظر آئے ، اگر وہ نہیں ہے تو ایسے دوست مل جائیں جو ہم پر خرچہ کر دیں جو جہازوں میں لے کر پھرا کریں، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا کوئی دوست نہیں ہوتا جو اخراجات اٹھائے، جو دوست اخراجات اٹھائیں گے تو قوم کو آپ کے دوستوں کے اخراجات اٹھانے پڑیں گے ، دوستوں نے دو روٹیاں پکوائیں اور پوری قوم کی روٹیاں کھا گئے، دوست اسی وقت تک ہوتے ہیں جب تک آپ وزیر اعظم ہوں۔سینیٹ اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے بل پر بحث کے دوران سینیٹرز کے درمیان نوک جھونک ہوتی رہی ، فیصل جاوید کی طرف سے بل کی مخالفت کرنے پر سینیٹر محمد علی سیف نے ا نہیں اپنی تنخواہ اور ٹی ا ے ڈی اے ایدھی فنڈ کسی اور فنڈ میں دینے کا مشورہ دے دیا ۔پیر کو سینیٹ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی جو تنخواہیں مل رہی ہیں اسی میں گزارا کریں، ایم کیو پاکستان کے سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ یہاں امیر کبیر لوگ بھی ہیں اور میرے جیسے مزدور لوگ بھی ہیں ، جنہوں نے تنخواہ نہیں لینی بالکل نہ لیں فیصل جاوید جو تنخواہ اور ٹی اے ڈی اے رہے ہیں وہ بھی ایدھی فنڈ یا کسی اور فنڈ میں دے دیں۔سینیٹ میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے بل کی تحریک پیش کرنے والے سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے دو بلوں کی تحاریک مسترد ہونے احتجاجا تیسری تحریک پیش کرنے سے انکار کیا تاہم چیئرمین سینیٹ کے کہنے پر انہوں نے تیسری تحریک پیش کی جو کہ مسترد ہو گئی۔پیر کو سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق بل پیش کرنے کی تحاریک پیش کیں ، دوبلوں کی تحاریک مسترد ہونے پر سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے تیسری تحریک احتجاجا نہ پیش کرنے کا اعلان کیا ، انہوں نے کہا کہ ارکان وعدے کیئے تھے لیکن اب مکر گئے ہیں ، 95فیصد ارکان نے بل کے حق میں ووٹ کے وعدے کئے تھے ، تاہم اس موقع پر چیئرمین سینیٹ کے کہنے پر سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے تیسری تحریک بھی پیش کی جو دیگر دو تحاریک کی طرح مسترد کر دی گئی۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں