ماسک پہننے میں عار محسوس نہ کریں،صدر مملکت

پشاور: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عوام پر صحت و صفائی کا خصوصی خیال رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا کا پھیلائو تشویشناک صورتحال ہے، اب تک 51 ممالک کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، پاکستان میں بھی اس کے پھیلائو کا خدشہ ہے لیکن ہمیں خوفزدہ ہونے کی بجائے حفاظتی تدابیر اختیار کرنی چاہییئں، ہاتھ دھوتے وقت صابن کا استعمال یقینی بنائیں۔ جمعہ کو یہاں گیسٹرالوجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ہمیں امراض سے بچائو پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ مہلک امراض سے بچائو کے لئے ڈاکٹر ز اور طبی ماہرین کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے صحت کے شعبے میںغیر سرکاری تنظیموں کے کردار کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر وہ قومی تشویش کے ایک اہم معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں۔کرونا کا پھیلائو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ اب تک 50 سے زائد ممالک میں کرونا وائرس پہنچ چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے گا اور انشاء اللہ پاکستان میں یہ نہیں پھیلے گا لیکن میڈیکل سائنس کے مطابق اگر 51 ملکوں میں یہ پھیل چکا ہے تو یہاں بھی اس کے پھیلنے کا خدشہ ہے اس لئے ہمیں اس بحران سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے ہمیں صورتحال کے لئے خود کو تیارکرنا ہو گا اور احتیاطی تدابیر پر توجہ دینا ہوگی۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہاتھ دھوتے وقت صابن کا استعمال یقینی بنائیں، اس سلسلہ میں آگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے اور عوام کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ حضور نبی کریم ۖ نے صحت و صفائی اور طہارت پر کس قدر زور دیا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ قبل ازیں میں نے ٹوتھ برش لے کر عوام کو دانتوں کی صفائی کی اہمیت کے حوالے سے آگاہ کیا تو مذاق اڑایا گیا۔ دانتوں کی صفائی کے حوالے سے 22 احادیث ہیں ۔ ہمارے دین ہمارے پیغمبر ۖ اور خلفائے راشدین نے معاشرے میں ہر پہلو سے لوگوں کو آگاہی فراہم کی کیونکہ قومیں اسی طرح بنتی ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ بالخصوص کرونا وائرس کے سلسلہ میں احتیاطی تدابیر میں سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہاتھ دھوئیں اور کھانسی یا چھینک آئے تو کسی بھی چیز اور کسی بھی طرح سے منہ ڈھانپیں اور ماسک پہنیں۔ بڑے اجتماعات منعقد نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے احادیث بھی موجود ہیں اور خلفائے راشدین کا طرز عمل بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔ جب حضرت عمر شام جا رہے تھے تو حضرت ابو ہریرہ انہیں راستے میں ملے اور آگاہ کیا کہ شام میں وباء پھیلی ہوئی ہے اور انہوں نے حضور پاکۖ کی حدیث کا حوالہ دیا تو حضرت عمر واپس ہو گئے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے سعودی عرب نے عمرے کے ویزے عارضی طورپر بند کردیئے ہیں۔ ایران نے نماز جمعہ کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ بڑی بڑی شادیوں کی تقریبات اور اجتماعات منعقد نہ کئے جائیں ۔ بلوچستان میں سکول چند روز کے لئے بند کئے گئے ہیں۔ جاپان جیسے ملک میں تمام سکول بند کر دیئے گئے ہیں ۔ وباء کے پھیلنے کے خدشہ کے پیش نظر ہمیں احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کی ضرورت ہے لیکن ہمیں خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت اس خطرے سے آگاہ ہے اور ضروری اقدامات کررہی ہے۔ صدر مملکت نے شہریوں پر زور دیا کہ ماسک پہننے میں عار محسوس نہ کریں۔ خود بھی گھر پر ماسک تیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے معاشرے میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لئے آئمہ کرام اور پیش اماموں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ انہیں بھی منبر کے ذریعے معاشرے میں آگاہی پیدا کرنی چاہیے۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ صحت و صفائی اور طہارت کے اصولو ںکو اختیارکریں تو نہ صرف امراض سے بچائو اور صحت مند معاشرے کے قیام میںمدد ملے گی بلکہ یہ اجر و ثواب اور آخرت سنوارنے کا ذریعہ بھی ہوگا۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں