فروغ نسیم نے سرعام سزائے موت کی مخالفت کر دی

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے سرعام سزائے موت کی مخالفت کر دی
سر عام پھانسی اسلامی تعلیمات اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے ،وزارت قانون و انصاف کوئی ایسا قانون نہیں بنائے گی جو اسلام اور آئین کے خلاف ہو، وفاقی وزیر قانون کا بیان
اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے بچوں سے زیادتی کر نے والوں کو سر عام پھانسی دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سر عام پھانسی اسلامی تعلیمات اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے ،وزارت قانون و انصاف کوئی ایسا قانون نہیں بنائے گی جو اسلام اور آئین کے خلاف ہو۔ہفتے کے روز وفاقی وزیر قانون و انصاف ڈاکٹر فروغ نسیم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سر عام پھانسی اسلامی تعلیمات اور آئین پاکستان کے منافی ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان 1994 میں سر عام پھانسی کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرعام پھانسی آئین کے ساتھ ساتھ شریعت کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ورزی ہے ۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ وزارت قانون آئین و شریعت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنائے گی۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے حکومتی رکن علی محمد خان نے بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی کی قرارداد پیش کی تھی جسے قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کر لی گئی تھی ۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں