6 ماہ میں ری ویمپ کا نظام تیار ہو جائے گا

اسلام آباد : وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت جولائی 19 سے جنوری 20 مختص کردہ فنڈ کا 27فیصد استعمال کیا ہے،پی ایس ڈی کے اخراجات سال کے دوسرے حصے میں زیادہ ہوتے ہیں، 134 نئے منصوبے پی ایس ڈی پی سے چل رہے ہیں،171 مکمل ہونے کے قریب ہیں، گوادر ایکسپو 2020 منعقد کریں گے۔ جمعہ کو سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ جولائی19سے جنوری 20میں پی ایس ڈی پی کی مد میں مختص کردہ فنڈ کا 27فیصد استعمال کیا ہے۔پی ایس ڈی کے اخراجات سال کے دوسرے حصے میں زیادہ ہوتے ہیں۔یہ قدرتی سائیکل ہے، نئے منصوبوں کی ادائیگیاں زیادہ تر سال کے آخر تک ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جولائی تا جنوری 701 ارب روپے مختص کردہ پی ایس ڈی پی کی رقم کے مقابلے میں 188ارب روپے خرچ ہوئے۔نظام میں بہتری لائی گئی ہے۔منصوبہ بندی کی وزارت سہ ماہی شروع ہونے سے پہلے پوری سہ ماہی کی آٹورائزیشن کی منظوری دیتی ہے۔منصوبہ وار کی طرز عمل کو بہتر بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چھ کروڑ کی آٹورائزیشن کو بڑھا کر 200 کروڑ کردیا ہے تاکہ مالی وسائل کی بروقت دستیابی یقینی بنایا جاسکے۔ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کی حد کو بھی 2ارب سے بڑھا کر 10 ارب کردیا ہے۔ وزیر اعظم کی واضح ہدایت ہے۔ہم 701 ارب کا پی ایس ڈی پی کا ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس کے لئے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ کراچی ہمارا دل و جان ہے، وہاں ترقیاتی کام ہماری ترجیح ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت کے تحت 2021 سے 2023 کی نیشنل گروتھ حکمت عملی بنا رہے ہیں۔منصوبوں کی مانیٹرنگ اور ایویلوشن کو ری ویمپ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چھ ماہ میں ری ویمپ کا نظام تیار ہو جائے گا۔وزیر اعظم سے منظوری کیلئے این ای سی کی ذیلی کمیٹی کے قیام کی سمری بھیجیں گے،تعمیرات کے شعبے میں پراجیکٹ ڈویلپمنٹ بورڈ بنا رہے ہیں۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کو ری سٹرکچر اور آپریشنلائز کرنے جارہے ہیں۔اسد عمر نے کہاکہ سی پیک سائنس و ٹیکنالوجی پرجوائنٹ ورکنگ گروپ بنائے گا، گوادر ایکسپو 2020 منعقد کریں گے،مراعات پر مبنی خصوصی اقتصادی زون ایکٹ پر کام شروع کرنے جارہے ہیں۔سی پیک میں تیسرے فریق کی شمولیت کے حوالے سے فریم ورک بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ زراعت میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کو دوبارہ سے فعال بنانے کی ضرورت ہے۔کاٹن کی پیداوار میں کمی ایک بحران بنتا جارہا ہے،وزیر اعظم کی ہدایت ہر کمیٹی اس کی وجوہات کا جائزہ لے رہی ہے۔اس موقع پر سیکریٹری پلاننگ ظفر حسن نے کہا کہ پانی کے شعبے میں کچھی کینال سے 26000 ایکٹر اضافی زمین میں آبپاشی کی ہے، جون تک مزید 25000ایکٹر اس میں ایڈ ہونگے۔جولائی تک تھر کے علاقے کا پانی کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہائی ویز میں حویلیاں مانسہرہ نومبر 2019 میں مکمل ہوئی۔سکھر ملتان موٹر وے بھی نومبر میں افتتاح کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی خان سے کوئٹہ این 70 بھی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے۔سی پیک کے مغربی روٹ کیلئے ژوب تا کچلاک کیلئے 68 ارب اراضی کے حصول کیلئے جمع کرادی گئی یے۔ٹرانزٹ ٹریڈ و میری ٹائم کے شعبے میں شپ یارڈ کی مرمت مکمل کی ہے۔انہوں نے کہاکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں لاہور کالج فار ویمن جھنگ کیمپس مکمل کیا ہے۔ پمز میں سکول آف ڈنٹسٹری مکمل کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہاکہ رشکئی خصوصی اقتصادی زون کا معاہدہ کرنے والے ہیں۔گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا وزیر اعظم نے افتتاح کردیا ہے۔ گوادر کول پاور پلانٹ کی گراونڈ بریکنگ کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال پی ایس ڈی پی میں پمز کے 5منصوبے رکھے ہیں۔بجلی کے شعبے میں 220کے وی کا ڈی آئی خان گرڈ اسٹیشن دسمبر 19میں مکمل ہوا۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں