ا سلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف بھر پور آپریشن جاری

اسلام آباد:ا سلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف بھر پور آپریشن جاری ہے۔ جمعرات کے روز سی ڈی اے کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی معاونت سے اسلام آباد کے مختلف سیکڑوں میں آپریشن کر کے غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے کے علاوہ تجاوزات کا خاتمہ کر کے سامان ضبط کر لیا۔مزید برآں انسداد تجاوزات آپریشنوں کے دوران خالی کرائی جانے والی سرکاری اراضی کے مقامات کو بھی چیک کیا گیا تاکہ دوبارہ تجاوزات کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔
سی ڈی اے کی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی ٹیم نے سیکٹر G-9میں آپریشن کر کے ایک سرکاری پلاٹ سے شٹرنگ کے سامان، چھپر ہوٹل اور کھوکھوں کا خاتمہ کر کے سامان ضبط کر کے سٹور میں جمع کروا دیا۔ اسی طرح مرکز G-10میں گرین بیلٹ پر دو(02) شٹرنگ کے ٹھیے، 01باربر شاپ،01 برف کا سٹال، 01 چھپر ہوٹل، 01 سبزی و فروٹ کا سٹال اور 01 جھگی کو ختم کروا کر گرین بیلٹ کو صاف کردیا گیا۔
علاوہ ازیں انسداد تجاوزات کے آپریشن کے دوران ایک دوسری ٹیم نے منڈی موڑکے علاقہ میں منڈی کے مین گیٹ کے سامنے گرین بیلٹ سے تجاوزات کا خاتمہ کرکے سامان سٹور میں جمع کروا دیا جبکہ کیرج فیکٹری کے علاقہ میں ایک غیر قانونی چھپر ہوٹل،سیکٹر I-14 کے مین ڈبل روڈ سے چھپر ہوٹل اور بلڈنگ میٹریل کے غیر قانونی ٹھیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا نوٹس دیا گیا بصورت دیگر ان کو مسمار کر دیاجائے گا۔اسی طرح سی ڈی اے کی ایک اور ٹیم نے غوری ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، کھنہ پل اور ضیاء مسجد کے مختلف علاقوں میں آپریشن کر کے تجاوزات کو ہٹایا اور تجاوز کنندگان کا سامان ضبط کر کے سٹور میں جمع کرا دیا۔
دریں اثناء انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی ٹیموں نے انسداد تجاوزات آپریشنوں کے دروان خالی کرائی جانے والی سرکاری اراضی کے مقامات کو بھی چیک کرنے کے لیے سید پور میں بکرا منڈی، ریت و بجری کے ٹھیوں، سیکٹر H-8 میں گرائے جانے والے کھوکھوں، شفاء ہسپتال کے سامنے گرین بیلٹ، فیڈرل بورڈ کے سامنے، مرکز اور سیکٹر I-8، سیکٹر I-9، سیکٹرI-10 کی گرین بیلٹس کو چیک کیا گیا اور نئی تجاوزات،کھوکھوں، چھپر ہوٹلوں، ریت وبجری کے ٹھیوں، فروٹ و سبزی کے سٹالوں،آٹو موبیل ورکشاپوں کا خاتمہ کرنے کے علاوہ انکا سامان ضبط کر لیا گیا جبکہ سیکٹر G-7/2 کی گلی نمبر53 میں مکان نمبر4/4-B کے الاٹیوں کو دیوار بنانے کے لیے کی جانے والی کھدائی کو بند کرا دیا گیا۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں