پاکستان میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا

اسلام آباد:وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، چین سے آنے والے مسافروں کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے، ان کی ایئرپورٹ پر ہی سکریننگ کی گئی، ان میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں تھا جس میں کرونا وائرس کی علامات ہوں اور جسے ہسپتال میں زیر علاج رکھنے کی ضرورت ہو،ہسپتال میں خیال رکھنے کے حوالہ سے ہم نے جامع اقدامات کئے ہیں، سات افراد اب تک زیر نگہداشت تھے، ان کے سیمپل چیک کئے ہیں ان میں کوئی بھی شخص کرونا وائرس سے متاثر نہیں، اس حوالہ سے صوبوں سے مشاورت بھی ہو گی، ہماری ٹیمیں صوبوں میں بھی جائیں گی تاکہ سب ایک پیج پر ہوں ، قوت مدافعت کے باعث اس بیماری میں 98 فیصد مریض خود ٹھیک ہو جاتے ہیں، وائرس وقت کے ساتھ بدلتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو چینی سفیر یاﺅ جنگ کے ہمراہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین میں کرونا وائرس کی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے، وائرس سے 17 ہزار سے زائد کیسز اور 300 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، چین سے آنے والے مسافروں کا خود استقبال کیا، ان کی ایئرپورٹ پر ہی سکریننگ کی گئی، ان میں کوئی بھی ایسا مشتبہ شخص نہیں تھا جسے ہسپتال میں زیر علاج رکھنے کی ضرورت ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں خیال رکھنے کے حوالہ سے ہم نے جامع اقدامات کئے ہیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ہمارے جو بھی ایس او پیز ہوں گے جاری کر دیئے جائیں گے اور صوبوں سے مشاورت بھی ہو گی، ہماری ٹیمیں صوبوں میں جائیں گی تاکہ سب ایک پیج پر ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کٹس مل چکی ہیں، اب تشخیص پاکستان میں ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ سات لوگ اب تک زیر نگہداشت تھے ،ان کے سیمپل چیک کئے وہ سب نیگٹو ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین میں نیوایئر کے حوالہ سے فروری کے پہلے ہفتے میں پروازوں میں تعطل پیدا ہو جاتا ہے، کل اور آج بھی ایئرپورٹ پر ٹیموں کے ہمراہ موجود تھا، کوئی بھی چینی یا پاکستانی 14 دن کا مانیٹرنگ پیریڈ گزارے بغیر چین نہیں چھوڑ سکتا، اس قدم کی وجہ سے ہمارے بچے محفوظ ہوگئے ہیں، آج جو بچے آئے ا±ن سے ہیلتھ ڈیکلیئرشب فارم لئے، صورتحال تسلی بخش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو ایک اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں تمام صوبوں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں اہم اقدامات کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہا کہ ایمرجنسی آف انٹرنیشنل کنسرن میں ٹریڈ پر پابندی نہیں ہے، ٹریڈ میں پروٹیکشن کے حوالہ سے اقدامات اپنی جگہ لیکن کرونا وائرس کے حوالہ سے اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پمز میں آئے شہری کا چین کے سفر کے حوالہ سے کوئی ریکارڈ نہیں ہے، کرونا وائرس کی شرح اموات 2.2 ہے، یعنی 100 میں سے 3 افراد کی موت ہو سکتی ہے باقی ایک تہائی کو شدید نمونیا ہوتا ہے، اس پر بے تحاشا ریسرچ ہو رہی ہے تاکہ اس کا علاج اور ویکسین بنائی جائے، تاحال اس وائرس کا کوئی علاج نہیں، ان کا ہم علامتی علاج ہی کر پاتے ہیں۔ ظفر مرزا نے کہا کہ مریض کو کنفرم ہونے کے بعد آئی سولیشن میں رکھا جاتا ہے تاکہ بیماری پھیل نہ سکے، ایک خاص مدت کے بعد مریض خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوت مدافعت کے باعث اس بیماری میں 98 فیصد مریض خود ٹھیک ہو جاتے ہیں، وائرس وقت کے ساتھ بدلتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چینی حکومت کے اقدامات کے مطابق وہاں سے کسی کو باہر آنے کی اجازت نہیں، ہمیں اپنے شہریوں کی بہت فکر ہے لیکن عالمی ادارہ صحت کی ہدایات ہیں کہ بیماری کو پھیلاو¿ سے روکنے کےلئے یہ اقدامات فوری ضروری ہیں، مفاد عامہ کےلئے اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کو وہاں سے نکالنے سے بیماری پھیل سکتی ہے، یہ ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن فی الحال یہ ہی بہترین فیصلہ ہے، مناسب وقت پر مناسب اقدامات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک فارم ڈیزائن کیا گیا ہے جو بطور فلٹر استعمال ہو گا، اس میں مسافر کی چین میں سفر کی ہسٹری معلوم ہوتی ہے، ہم نے پورا ڈیٹا بیس بنایا ہے، یہ اقدامات پاکستان کے لوگوں کو محفوظ بنا سکیں گے۔اس موقع پر چینی سفیر یاﺅ جنگ نے کہا کہ چین میں صورتحال کافی سنگین ہے، 361 افراد اب تک چین میں فوت ہوچکے ہیں، کرونا وائرس کے حوالہ سے 21 جنوری سے چینی حکومت نے سخت اقدامات کرنا شروع کر دیئے ہیں، اس وباءکا آغاز سپرنگ فیسٹیول کے دوران ہوا، اس حوالہ سے ہم ہر حکمت عملی کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور تمام ممکنہ اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ اس کا علاج نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے ہم مسلسل عالمی ادارہ صحت اور دیگر ممالک سے رابطہ میں ہیں، اس وقت ایک عالمی ہیلتھ ایمرجسنی کی صورتحال ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہم اس چیلنج کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، چین اپنے اور تمام عالمی کمیونٹی کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملہ میں پاکستان کے مسلسل تعاون پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ نے بذریعہ ٹیلی فون چینی حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا اظہار کیا ہے۔ چینی سفیر نے کہا کہ اس وقت چین میں پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، 8 شہروں میں پاکستانی طلباءموجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کےلئے اس وقت یہ ایک جنگ کی صورتحال ہے جوکہ گلوبل چیلنج بن چکا ہے، چین میں متاثرہ 4 پاکستانی شہری ووہان سے جو باہر گئے ہیں ان کی صحت پہلے سے بہتر ہے، 100 سے زائد ممالک کے شہری ابھی تک چین میں موجود ہیں ان کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے جس کا ہمیں اندازہ ہے، چین میں تشخیص ہوئے پاکستانی شہریوں کا خیال اچھے سے رکھا جا رہا ہے، ہم ان کو اپنے شہری ہی سمجھتے ہیں، 130 شہری پیر کی صبح چین سے پاکستان پہنچے ہیں، ان میں 12 چینی بھی شامل ہیں جن کا تعلق متاثرہ صوبوں سے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چینی شہریوں کے بیرون ملک سفر کو روکتے ہیں، اگر کوئی ایمرجنسی نہ ہو، اس حوالہ سے چین کا پاکستانی سفارتخانہ تمام صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے، پاکستان میں آئے چینی شہریوں میں سے 4 کا تعلق مختلف کمپنیز سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ان شہریوں کی بھی باقاعدہ مانیٹرنگ ہو گی۔ چینی سفیر نے کہا کہ پاک۔چین پروازوں کا سلسلہ بحال ہو گیا ہے، چین میں موجود پاکستانی کمیونٹی کو ملک میں متاثرہ صوبوں کے علاوہ ہر جگہ جانے کی اجازت ہے اور ان کی اس حوالہ سے تمام ضرویات زندگی کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں چینی سفیر نے کہا کہ چینی میڈیکل ادارے جو عالمی اداروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس بیماری کا علاج ڈھونڈنے کی کوشش میں ہیں، ایئرپورٹ کے عملہ کےلئے احتیاطی تدابیر بتا دی گئی ہیں اور وہ ان پر عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر پاکستان نے امید سے زیادہ تعاون کیا ہے، پاکستان کے اس معاملہ پر تعاون پر چینی حکومت شکر گزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سارے عمل میں پاکستان کی حمایت ملی، پاکستان نے ایک سچے اور مخلص دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں