اٹلی میں کرونا وائرس کے3ہزار296 مریضوں کی تصدیق

اٹلی میں کرونا وائرس کے3ہزار296 مریضوں کی تصدیق،414صحت یاب،ہلاکتوں کی تعداد148 ہوگئی
روم:طالوی حکام نے جمعرات کو3ہزار296 افراد میں نئے کرونا کے ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی ہے جو گزشتہ روز کی تعداد میں 590کیسز کااضافہ ہے۔اس تعداد میں صحت یاب یا ہلاک ہونے والوں کوشامل نہیں کیاگیا،جن کی تعداد شہری تحفظ کے محکمہ کے سربراہ اور کرونا وائرس ایمرجنسی کے غیرمعمولی کمشنر اینجلو بوریلی نے علیحدہ سے فراہم کی ہے۔بوریلی نے ٹی وی پرمقامی وقت کے مطابق شام 6بجے نشر کی گئی ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے صحت یاب اوراسپتالوں سے فارغ کئے گئے لوگوں کے138 نئے کیسز کا اندراج کیا ہے جس سے صحت یاب ہونے والوں کی کل تعداد اب تک414 ہوگئی ہے۔اکتالیس مزید افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جس ک مطلب ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد148 تک پہنچ گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے66 اور94 سال کی درمیانی عمر کے افراد تھے جن کی صحت کی صورتحال نازک تھی اور ان میں سے اکثریت پہلے سے بیماریوں میں مبتلا تھی۔گزشتہ دنوں کی طرح وزارت صحت نے روزانہ کے بیان میں واضح کیا کہ ادارہ قومی صحت (آئی ایس ایس) کے ذریعہ موت کی مثر وجہ کی تصدیق کے بعد ہی 148 اموات کی تصدیق ہوسکتی ہے۔وزارت نے مزید بتایا کہ اموات اور صحت یاب ہونے والوں کی اس تعداد سے ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد3ہزار858 ہوگئی ہے۔لمبارڈی خطے میں اس وبا سے متاثرہونے والا بدترین علاقہ ہے جہاں روزانہ انفیکشن کے 280 کیسز کااضافہ ہوا جہاں مجموعی مثبت کیسز کی تعداد 1ہزار777 ہوگئی ہیاس کے بعد ایمیلیا روماگنا (وبا کے 142نئے اور مثبت ٹیسٹ کے حامل کل658 افراد) اوروینیتو(وبا کے35 نئے اورمتاثرہ380 افراد) کا علاقہ ہے۔نئے کورونا وائرس کے مثبت 3ہزار296 افراد کے حوالے سے اس وقت وائرس کی ہلکی علامات رکھنے والے تقریبا 1ہزار155افراد گھروں میں نظر بند ہیں جبکہ بیماری کی علامات رکھنے والے 1ہزار 790افراد ہسپتال میں اور351 انتہائی نگہداشت میں ہیں۔بوریلی نے صحافیوں کوبتایا کہ انتہائی نگہداشت میں رکھے گئے مریض کرونا وائرس سے متاثرہ ہونے والی کل آبادی کا تقریبا10 فیصد ہیں(بشمول ہلاکتوں اور صحت یاب ہونے والوں کی تعداد)انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک کل متاثرہ افراد مییں صحت یاب ہونے والوں کی شرح10.73 فیصد جبکہ ہلاکتوں کی تعداد3.84 ہے۔اٹلی کے سپیریئر انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (آئی ایس ایس) نے جمعرات کو ایک الگ بیان میں وضاحت کی ہے کہ کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی اوسط عمر 81 سال ہے وہ زیادہ تر مرد ہیں ، دو تہائی سے زیادہ کیسزمیں مریض پہلے سے تین یا زیادہ بیماریوں کاشکار تھے۔
چین کی ہائی ٹیک کمپنیوں نے نوول کرونا وائرس کے مشتبہ کیسز کی تیز رفتار سی ٹی سکین پروسیسنگ کیلئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے سسٹمز کی تیاری کی کوششوں کو تیز کردیا ہے۔نیشنل گائیڈ لائنز نے نوول کورونا وائرس کی تشخیص کے لئے سی ٹی سکین کی اہم ذریعہ کے طور پر سفارش کی ہے۔ڈاکٹرز ایک مریض کے پھیپھڑوں پر سایہ جیسی علامات سے بیماری کا بتا سکتا ہے۔ایک مریض کے تقریبا 300 تک سی ٹی سکین امیجز ہوسکتے ہیں جن کے ایک ننگی آنکھ سے مشاہدہ کے لئے ایک ڈاکٹر کو5 سے15 منٹ کا وقت درکار ہو گا۔نوول کرونا وائرس کے مریضوں کے لئے ایک ریڈیالوجسٹ کو عموما پہلے کے سکینز کو چیک کرنا پڑتا ہے جس سے تشخیص کاعمل مزید دباو میں آجاتا ہے۔ اے آئی فرم آئی فلائی ٹیک نے پیر کو اعلان کیا کہ اس نے چین کی اکیڈمی آف سائنسز کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر نوول کرونا وائرس کی تشخیص کا ایک پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔آئی فلائی ٹیک کے مطابق یہ سسٹم ایک مریض کے سی ٹی سکینز کا تین سیکنڈ کے اندر مطالعہ اور تجزیہ کرسکتاہے۔انہوئی صوبے میں شہر ہیفی کے ایک اسپتال میں نصب اس سسٹم سے تمام مصدقہ کیسز کی تشخیص کی گئی ہیاور مرض کی تشخیص میں اس کی کارکردگی کی شرح (ری کال شرح) 90فیصد رہی۔مشین لرننگ میں ری کال شرح کا مطلب درست مثبت شرح کے طور پر لیا جاتا ہے جو مثبت کیسز کی شرح کو ماپنے کا ایک پیمانہ ہے۔یہ مارفالوجی، زخم کے پھیلاو اور شدت جیسے امیجز کی اہم علامات، کا تجزیہ اور پورے پھیپھڑے کا ڈائنامک کنٹراسٹ پیش کرسکتاہے جس سے کرونا وائرس تشخیص کا درست اور موثر ریفرنس حاصل ہوتا ہے۔دیگر اے آئی کمپنیاں بھی مرض کی تشخیص کے نظام تیار کررہی ہیں۔16 فروری کو ، ہینان صوبہ کے شہر چینگ چو کے نوول کرونا مرض کے ایک اسپتال میں مصنوعی ذہانت کا نظام متعارف کرایا گیا۔ علی بابا ڈامو اکیڈمی اور علی بابا کلاڈ کے ذریعہ تیار کردہ یہ نظام 96 فیصد درستگی کی شرح کے ساتھ 20 سیکنڈ کے اندر سی ٹی امیجز کا تجزیہ کرسکتا ہے۔شنگھائی کی ایک اے آئی فرم ییتونے 28 جنوری کو شنگھائی پبلک ہیتھ کلینیکل سنٹر میں اسکین -ریڈنگ سسٹم نافذ کیا۔ فیڈ بیک موصول ہونے کے بعد اس نظام کو پورے ملک کے تقریبا 20 اسپتالوں میں تعینات کیاگیا ہے ، جس میں وبا کا مرکز ووہان کے اسپتال بھی شامل ہیں۔
ایرانی وزارت صحت و طبی تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث ایران میں 124 افراد انتقال کر چکے ہیں ، یہ اعلان جمعہ کو کیا گیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارت کے شعبہ تعلقات عامہ اور معلوماتی مرکز کے سربراہ کیانوش جہانپورنے کہا ہے کہ ایران میں مجموعی تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 4 ہزار 7 سو 47 ہو چکی ہے جن میں سے 913 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔جہانپور نے کہا کہ مجموعی طور پر 1ہزار4 سو13 متاثرہ کیسز کا تعلق تہران سے ہیجبکہ مرکزی شہر قم سے 5سو 23 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی نئے سال کی چھٹیاں قریب آتے ہی شمالی صوبوں گیلان اور مازنداران کے سفر پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔انہوں نے شہریوں کو سفر سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ایران نے 19فروری کومرکزی شہر قم سے وبائی مرض کا پہلا کیس سامنے آنے کا اعلان کیا تھا۔
کرونا وائرس کے باعث ایک 86 سالہ بزرگ شہری جمعہ کو انتقال کرگیا ، جو کرونا وائرس سے نیدر لینڈ میں پہلی موت ہے۔ڈچ قومی ادارہ برائے صحت عامہ و ماحولیات کے مطابق یہ شخص ساحلی شہر روٹرڈیم کے اکیازیہ ہسپتال میں مرا جہاں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد اس کا علیحدگی میں علاج کیا جا رہا تھا۔ڈچ وزیر برائے طبی نگہداشت برونو برونس نے جمعرات کو کہا تھا کہ ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک روز میں 38 سے بڑھ کر 82 ہو گئی ہے۔27 فروری کو شمالی صوبہ نارتھ برابانت کے علاقہ لون اپ زاند سے تعلق رکھنے والے ایک 56 سالہ بزرگ شخص کا کرونا کی تشخیص کیلئے ٹیسٹ مثبت آیا تھا جو کہ نیدر لینڈ میں پہلا متاثرہ شخص تھا۔
سربیا میں نوول کروناوائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے،ملک کے وزیرصحت زالتیبور لونکر نے جمعہ کوتصدیق کی ہے۔لونکر نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ مریض43سالہ آدمی ہے جو شمالی شہر سبوتیکا کارہائشی ہے۔یہ شخص حال ہی میں بڈاپسٹ سے واپس آیا جہاں اس نے اپنی ہمشیرہ کے ہاں کچھ وقت گزاراتھا۔وزیر کے مطابق جب یہ وہاں موجود تھا تو اس کی بہن میں تنفس کے مسائل اور بخار سمیت علامات موجود تھیں۔سربیا واپسی پر اس شخص میں بھی وہی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں جہاں اس نے خود کو اپنی بیوی کے ساتھ گھر میں الگ تھلگ کرلیا جس کے بعد اس نے حکام کو اپنے کیس سے متعلق آگاہ کیا۔لونکر نے بتایا کہ شمالی سربیامیں سبوتیکا اسپتال میں اسے قرنطینہ کیاگیا ہے جہاں وہ بہتر محسوس کررہاہے اور کوئی پیچیدہ صورتحال نہیں ہے۔انہوں نے بتاہا کہ اس شخص کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے والے افراد کے ٹیسٹ شروع کردئے گئے ہیں جن کے نتائج کا انتظار ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم اس کی توقع کررہے تھے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے وائرس سے پا ک ملک ہونے کا سوچنا ایک غیر حقیقی چیز ہے یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں نوول کرونا وائرس کی وجہ سے تقریبا 30 کروڑ طلبہ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ادارے نے تعلیم میں خلل کم کرنے کیلئے فاصلاتی تعلیمی پروگرامز استعمال کرنے کی سفارش کر دی۔جمعرات کوپیرس میں قائم یواین ایجنسی نے کہا کہ یہ بے مثال اعدادوشمار ہیں، 13 ممالک نے ملک بھر میں اسکول بند کر دیئے ہیں جس کے باعث 30 کروڑ بچے اور نوجوان متاثر ہوئے ہیں جوکہ عام طور پر پری پرائمری اور سیکنڈری سے اوپر کی کلاسز لیتے ہیں۔ادارے نے کہا کہ مزید 9 ممالک نے کرونا وائرس کی روک تھام اور قابو پانے کیلئے مقامی اسکولوں کو بند کر دیا ہے، اگر ان ممالک کو ملک بھر میں اسکول بند کرنے کا حکم دیں تو مزید 18کروڑ بچے اور نوجوان اسکول نہیں جا سکیں گے۔یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل اودرے آزولے نے کہا کہ صحت اور دیگر بحرانوں کی وجہ سے اسکولز کی عارضی بندش بدقسمتی سے پہلی بار نہیں ہوئی،عالمی سطح پر اتنی تیزی سے تعلیم میں خلل آنا بے مثال ہے اور اگر یہ سلسلہ طویل ہوا تو یہ تعلیم کے حق کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ “سیکھنا سب کیلئے” کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے ہم ممالک کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، خاص طور پر ان متاثرہ بچوں اور نوجوانوں کیلئے جو اسکول بند ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔اسکول بند ہونے کی وجہ سے سیکھنے کے عمل اور تعلیمی کارکردگی کو درپیش خطرہ کے پیش نظر یونیسکو نے ممالک کی فاصلاتی تعلیم میں فوری طور پر مدد اورحمایت کرنے کی درخواست کی ہے۔اقوام متحدہ کا ادارہ 10 مارچ کو وزرائے تعلیم کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کرے گا تاکہ سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنے، شمولیت اور انصاف کو یقینی بنانے کیلئے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا جائے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں