چین سمیت دیگر ممالک میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں جاری

چین سمیت دیگر ممالک میں کرونا وائرس سے ہلاکتیںجاری ،ایرانی نائب وزیر صحت میں وائرس کی تصدیق
چین میں مزید 71افراد ہلاک، 508نئے مریضوں کی تصدیق ، مجموعی ہلاکتیں 2663، متاثرہ افراد کی تعداد 77ہزار 658 ہوگئی، 9ہزار 126 افرادکی حالت بدستور تشویشناک
ایران میں کرونا وائرس سے15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ،اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد7 ہوگئی ،229 افراد میں وائرس کی تصدیق ،جمہوریہ کوریا میں مزید 60 مصدقہ مریض سامنے آگئے ، ہلاکتیں 9،متاثرہ افراد کی تعداد 893 ہوگئی
متاثرہ صوبہ ہوبے میں خراب موسم کی پیش گوئی، درجہ حرارت میں اتار چڑھائو اور زیادہ نمی کی وجہ سے بہار میں وبائی مرض میں تیزی آ سکتی ہے،صوبائی حکام کا انتباہ،چینی وزارت تعلیم کا تمام جامعات وباء پر موثر قابو پانے تک بند رکھنے کا اعلان
بیجنگ:چین سمیت دیگر ممالک میں کرونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے ،چین میں کرونا وائرس نے مزید 71افراد کی جان لے لی جبکہ 508نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 2663اور متاثرہ افراد کی تعداد 77ہزار 658 ہوگئی جن میں سے 9ہزار 126 افرادکی حالت تاحال تشویشناک ہے ، ایرانی نائب وزیر صحت بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے جن میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ ایرانی وزارت صحت نے ملک میں نوول کرونا وائرس کی وبا سے15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ،اٹلی میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد7 جبکہ229 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ،جمہوریہ کوریا میں مزید 60 مصدقہ مریضوں کی تصدیق کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 893 اورہلاکتوں کی تعداد 9ہوگئی ،ادھر چین کے کرونا وائرس سے متاثرہ صوبہ ہوبے میں خراب موسم کی پیش گوئی کرتے ہوئے مقامی حکومتوں اور شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں اتار چڑھائو اور زیادہ نمی کی وجہ سے بہار میں وبائی مرض میں تیزی آ سکتی ہے۔چینی وزارت تعلیم نے تمام جامعات وباء پر موثر قابو پانے تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔منگل کو چین کے محکمہ صحت نے کہا ہے کہ چینی مین لینڈ میں صوبائی سطح کے 31 علاقوں میں کرونا وائرس بیماری کے نئے 508 مصدقہ مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 71 اموات ہوئی ہیں۔قومی صحت کمیشن نے بتایا کہ ان اموات میں سے 68 ہلاکتیں صوبہ ہوبے، 2 صوبہ شان ڈونگ اور ایک صوبہ گوانگ ڈونگ میں ہوئی۔کمیشن نے کہا ہے کہ پیر کے روز 530 نئے مشتبہ کیسز سامنے آئے پیر کے ہی روز 2 ہزار 589 مریضوں کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا جبکہ شدید بیمار مریضوں کی تعداد 789کمی کے بعد 9ہزار 126 رہ گئی۔ پیر کے آخر تک چینی مین لینڈ پر مصدقہ مریضوں کی تعداد 77ہزار 658 تک پہنچ گئی جبکہ مرض سے 2ہزار 663 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔کمیشن نے مزید کہا کہ 2 ہزار 824 مریضوں کے وائرس سے متاثر ہونے کا تاحال خدشہ ہے۔کل 27ہزار 323مریضوں کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کیا جا چکا ہے۔کمیشن نے کہا کہ 6لاکھ 41ہزار 742 قریبی رابطوں کا پتہ لگایا گیا ہے جن میں سے 15 ہزار758افراد کو پیر کے روز طبی نگرانی سے فارغ کر دیا گیا جبکہ باقی 87ہزار 902 افراد تاحال طبی نگرانی میں ہیں۔پیر کے آخر تک ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقہ میں 2 اموات سمیت 81 مصدقہ مریض سامنے آچکے ہیں جبکہ مکاؤ خصوصی انتظامی علاقہ میں 10 مصدقہ مریضوں جبکہ تائیوان میں ایک ہلاکت سمیت 30 مریض سامنے آئے ہیں۔ہانگ کانگ میں 19، مکا ؤمیں 6 اور تائیوان میں 5 مریضوں کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔چینی مین لینڈ پر پیر کے روز شنگھائی اور تھیانجن سمیت صوبائی سطح کے 23 علاقوں میں نوول کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔قومی صحت کمیشن نے منگل کے روز بتا یا کہ پیر کے روز وبا ء کے مرکز صوبہ ہوبے کے باہر کل 9 نئے مصدقہ مریض سامنے آئے ہیں۔چین کے قومی صحت کمیشن نے بتایا ہے کہ چین میں صحت یاب ہو کر ہسپتال سے فارغ ہونے والے نئے مریضوں کی تعداد میں وائرس سے متاثرہ نئے مریضوں کی نسبت مسلسل 7ویں روز اضافہ ہوا ہے ۔کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق پیر کے روز 2 ہزار 589 افراد صحت یاب ہو کر ہسپتال سے فارغ ہو گئے جو کہ وائرس سے متاثرہ نئے مصدقہ مریضوں کی تعداد سے بڑھ کر ہے جو کہ 508 تھی ۔کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر وائرس سے متاثرہ 27 ہزار 323 مریض پیر کے اختتام تک صحت یاب ہوکر ہسپتال سے فارغ ہوئے ۔چین میں پیر کا دن مسلسل چھٹا روز تھا جب وائرس سے متاثرہ نئے مریضوں کی تعداد 1ہزار سے کم رہی ۔ اعدادوشمار کے مطابق صوبہ ہوبے اور اس کے دارالحکومت ووہان شہر دونوں میں نئے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد پیر کے روز وائرس سے متاثرہ نئے مریضوں سے زیادہ رہی۔ادھر ایران کے نائب وزیر صحت و طبی تعلیم ایراج ہریچی بھی ناول کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ یہ بات منگل کو وزارت کے مشیر نے بتائی ہے ۔علی رضا نے ٹویٹ کیا کہ نائب وزیرکے “کورونا وائرس کے انفیکشنکو مثبت قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہریچی “پچھلے دنوں وائرس کے خلاف لڑنے میں سب سے آگے تھے ۔ایران کی وزارت صحت ومیڈیکل ایجوکیشن نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ملک میں نوول کرونا وائرس کی وبا سے گزشتہ ایک ہفتے میں 15 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔نیم سرکاری خبر ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق وزارت صحت ومیڈیکل ایجوکیشن کے تعلقات عامہ واطلاعات مرکز کے سربراہ کیانوش جہانپور نے بتایا کہ اس مرض سے95 افراد متاثر ہوئے جن میں سے15 افراد ہلاک ہوگئے۔جہانپور نے کہا کہ متاثرہ افراد کا تعلق ایران کے وسطی شہر قم سے ہے یا وہ افراد ہیں جن کا قم کے متاثرہ افراد سے تعلق رہا ہے۔ادھر اٹلی میں اب تک کم از کم 229 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔شہری حفاظت کے ادارے کے سربراہ اور کرونا وائرس ایمرجنسی کے غیرمعمولی کمشنر اینجیلو بوریلی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پہلے سے بیمار 62 سالہ بزرگ آدمی دم توڑ گیا ہے جس کے بعد اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 7 ہو گئی ہے۔بوریلی نے کہا ہے کہ میں لومبرڈے اور وینیتو کے علاقوں میں کرونا وائرس کے 2 مراکز کی تصدیق کر سکتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ لومبرڈے کے نواحی علاقوں اور وینیتو میں پاڈیوا کے علاقوں میں انفیکشن کے مابین ممکنہ تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا، تاحال ذمہ دار علاقائی محکمہ صحت نے بھی کوئی تصدیق نہیں کی۔اٹلی کے علاقہ لومبرڈے میں جمعہ کے روز سے وبا ء نے سر اٹھایا اور اس کے بعد یہ کچھ شمالی اور وسطی علاقوں میں پھیل گئی ہے۔ملک میں کرونا وائرس ایمرجنسی کے کوآرڈینیٹر بوریلی کے مطابق لومبرڈے میں بیماری کے کل 167 مریض، وینیتو میں 27، ایمیلیا روماگنا میں 18، پیڈمونٹ میں 4 جبکہ وسطی لازیو کے علاقہ میں 3 مریض سامنے آچکے ہیں۔بوریلی نے کہا کہ ان میں سے ہم نے 99 مریضوں کو علامات ظاہر ہونے پر ہسپتال داخل کرلیا ہے جن میں سے 23 شدید بیماری ہیں جبکہ 91 مریضوں کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے جنہیں خاص دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہے۔حکومت نے فرمان جاری کیا ہے کہ جس علاقے میں ایک بھی مریض سامنے آیا وہاں پر برادریوں کو مکمل طور پر الگ کردیا جائے جس کے بعد شمالی اٹلی میں متعدد شہر پیر کو بند رہے۔جمہوریہ کوریا نے منگل کے روز کرونا وائرس کے مزید 60 مصدقہ مریضوں کی تصدیق کی ہے جس سے وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 893 ہو گئی ہے۔مقامی وقت کے مطابق صبح 9بجے تک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 893 تھی جو کہ گزشتہ دن کی نسبت 60 زیادہ ہیں۔جمہوریہ کوریا کے مراکز برائے بیماریوں کی روک تھام اور تدارک (کے سی ڈی سی)دن میں روزانہ 2 بار مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے اور شام 5 بجے وائرس سے متعلقہ اعدادوشمار کو اپ ڈیٹ کرتا ہے۔ وائرس کے نئے مریضوں میں سے 49 کا تعلق ڈیگو اور اس کے نواح میں واقع شمالی صوبہ گیونگ سانگ سے ہے جو دارالحکومت سیئول سے 300 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ڈیگواور اور شمالی گیونگ سانگ صوبہ میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کی کل تعداد بڑھ کر 731 ہو گئی ہے۔وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں گزشتہ ہفتے اضافہ ہوا ہے جبکہ بدھ سے پیر تک 802 نئے مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ ملک میں 4 سطحوں پر مشتمل وائرس الرٹ کو اتوار کے روز انتہائی سطح کی سرخ سطح تک بڑھا دیا گیا ہے۔ملک کے جنوب مشرقی علاقوں پر مشتمل دو کلسٹرز میں وائرس کا حالیہ پھیلا بہت زیادہ ہے۔ پیر کے روز کل مریضوں میں سے 458 کا تعلق اقلیتی مذہبی فرقے سے ہے جو ڈیوگو میں سنکیون جی کہلاتا ہے۔محکمہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ ڈیگو میں نزلے کی علامات رکھنے والے 28ہزار افراد کے ٹیسٹ کئے جائیں گے اور سنکیون جی فرقے کے ماننے والوں میں سے 9ہزار ایسے افراد کے ٹیسٹ کئے جائیں گے جنہوں نے چرچ کی دعائیہ تقریبات میں شرکت کی تھی۔دیگر 113 کیسز کی نشاندہی چھیونگڈو کانٹی میں واقع ڈینام ہسپتال سے ہوئی ہے۔ جوکہ ڈیگو کے جنوب میں واقع ہے۔ ہسپتال کے تمام 652 مریضوں اور عملے کے ارکان کے ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں جبکہ ہسپتال کے نفسیاتی امراض کے وارڈ میں داخل تمام مریضوں کے وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ایک مزید موت کی تصدیق کے بعد مرنے والوں کی تعداد 9ہوگئی ہے، مرنے والوں میں 6 کا تعلق اس ہسپتال سے ہے۔ڈیگو اور چھیونگڈو کو جمعہ کے روز خصوصی انتظامی زون قرار دیا گیا جبکہ سیئول میں احتجاجی ریلیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ملک میں 3جنوری سے اب تک کل 36ہزار افراد کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے کووڈ-19 وائرس کے 22ہزار 550ٹیسٹ منفی آئے ہیں اور 13ہزار 273 کے ٹیسٹ کئے جارہے ہیں۔چین کے صوبہ ہوبے میں کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کی مہم کی رہنمائی کرنے والی مرکزی حکومت کی ٹیم نے پیر کے روز اگلے محاذ پر کام کرنے والے طبی ماہرین کے ساتھ مشاورت کی ہے اور نوول کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کیلئے بہترین کوششیں کرنے پر زور دیاہے۔مرکزی حکومت کی ٹیم کی سربراہ نائب وزیراعظم سون چھن لان نے کرونا وائرس کی وبا کے مرکز ووہان کے تھونگ جی ہسپتال کا دورہ کیا، ٹیم نے ووہان میں وبا پر قابو پانے میں مدد کرنے کیلئے مشاورتی مرکز میں بیجنگ،شنگھائی اور فوج کے ماہرین کے ساتھ مشاورت کی۔سون چھن لان چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کی رکن بھی ہیں، انہوں نے کہاہے کہ شدید اور کم بیمار مریضوں کو یکساں اہمیت دینی چاہیئے،انہوں نے کہا کہ شدید بیمار اورتشویش ناک حالت میں مریضوں کے علاج میں بہتری کیلئے کوشش کی جائیں اور کم بیمار اور عام کیسز کیلئے انتظامی معیار بہتر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کم بیمار مریضوں کی جلد صحت یابی یقینی بنانے کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں جبکہ جدید آلات، ٹیکنالوجی اور ادویات کیمعاملے میں شدید بیمار مریضوں کو ترجیح دینی چاہیئے۔سون نے ہسپتالوں کو طبی اشیا فراہم کرنے، چین کی روایتی ادویات اور مغربی ادویات، تشخیصی ادویات اور طبی طریقوں،علاج معالجہ، نرسنگ اور انتظامات کے ذریعے مریضوں کی صحت یابی کی شرح بڑھانے اور اموات کی شرح کم کرنے پر زور دیا۔وسطی چین کے صوبہ ہوبے نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں خراب موسم کی پیشن گوئی ہوئی ہے جس سے نوول کرونا وائرس کے خلاف کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔آفات میں کمی بارے صوبائی کمیشن نے کہا ہے کہ منگل سے وبائی مرض کے مرکز صوبہ میں درجہ حرارت میں 12 ڈگری کی کمی ہو سکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مسلسل بارشوں اور گرج چمک کے ساتھ تیز ہواں کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ خراب موسم کی یہ صورتحال مارچ کے اوائل تک جاری رہے گی۔کمیشن نے کہا ہے کہ مقامی حکومتوں اور شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں اتار چڑھا اور زیادہ نمی کی وجہ سے بہار میں وبائی مرض میں تیزی آ سکتی ہے۔اس کے علاوہ موسم بہار میں سیلاب کے وسیع امکانات کی وجہ سے صوبہ میں غلے کی پیدوار کو نقصان پہنچ سکتا ہے اس کے علاوہ پہاڑی علاقوں میں تودہ گرنے کی صورت میں دیگر قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ گرج چمک کے دوران جنگلات میں آگ کا دوسرا خطرہ بھی موجود ہے۔صوبہ بھر میں ٹرانسپورٹ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طوفانی بارشوں اور تیز ہواں کے پیش نظر حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ وبائی امراض کے خلاف استعمال ہونے والے سامان اور اہلکاروں کی نقل حمل کو یقینی بنایا جاسکے۔دوسری جانب چین کی وزارت تعلیم نے کہا ہے کہ کالجز اور جامعات میں نئے سمسٹرز کے داخلوں کی تاریخیں اصولی طور پر نوول کرونا وائرس کی وبا ء پر موثر قابو پانے تک نہیں ہونی چاہئیں۔وزارت نے پیر کے روز کہاکہ طلبا کے کیمپس میں آنے کے بعد انتظامات کو بہتر کرنے کیلئے سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔وزارت نے کہا کہ مختلف علاقے مقامی سطح پر وباء کی صورتحال کے مطابق سائنسی منصوبہ بندی کریں جبکہ سکول کھولنے کی تاریخیں مختلف ہونی چاہئیں۔وزارت نے آن لائن تعلیم کے مراکز بہتر کرنے، کورسز کے نصاب میں اصلاحات لانے اور پڑھانے کے نئے انداز متعارف کرانے پر زور دیا۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں