کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد2236ہوگئی

چین میں کرونا وائرس سے مزید 118افراد ہلاک ، 889نئے مریضوں کی تصدیق
ووہان ہسپتال کا ڈاکٹر بھی چل بسا ،مجموعی ہلاکتیں 2236،متاثرہ افراد کی تعداد 75ہزار465 ہوگئی، 11ہزار 633 افراد کی حالت تشویشناک، جیل میں 207مریضوں میں وائرس کی تصدیق ،تحقیقات شروع
عراق نے کرونا وائرس کے پیش نظر سرحدیں 3روز کیلئے بند کردیں، چینی شہر میں وبائی مرض سے نمٹنے کیلئے مفت ٹیکسی سروس کا آغاز،کرونا وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری کی کوششوں میں مزید تیزی
بیجنگ:چین میں نوول کرونا وائرس کے باعث مزید 118افراد ہلاک اور 889نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 2236جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 75ہزار465 ہوگئی جن میں سے 11ہزار 633 افراد کی حالت تشویشناک ہے ،ووہان ہسپتال میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا،مشرقی چین کی ایک جیل میں مجموعی طور پر 207مریضوں میں نوول کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ کرونا وائرس کے باعث عراق نے ایران کے ساتھ اپنی زمینی سرحدیں 3 روزکیلئے بند کردیں، جنوب مغربی چینی شہر گوئی یانگ نے کرونا وائرس وبائی مرض سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کیلئے مفت ٹیکسی سروس کا آغاز کردیا ۔چین میں نوول کرونا وائرس کے 889نئے کیسز اور 118اموات کی تصدیق ہوئی ہے ،چینی صحت حکام نے جمعہ کے روز کہا کہ 31صوبائی سطح کے علاقوں اور سنکیانگ کے پیدوار اورتعمیراتی کورپس سے جمعرات تک ان نئے مصدقہ کیسز اور نئی اموات کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔قومی صحت کمیشن کے مطابق مرنے والوں میں سے115کا تعلق صوبہ ہوبے سے ہے جبکہ ایک ایک کا تعلق بالترتیب ژے جیانگ ،چھونگ چھنگ اور یون نان صوبوں سے ہے ۔کمیشن نے کہا کہ جمعرات کے روز 1ہزار614 نئے مشتبہ کیسز سامنے آئے۔جمعرات ہی کے روز 2ہزار109 مریضوں کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا جبکہ شدید بیمارمریضوں کی تعداد 213 کم ہو کر11ہزار 633 رہ گئی ہے۔چینی مین لینڈ پر جمعرات کے آخر تک تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 75ہزار465جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 2ہزار 236 ہوگئی ہے۔کمیشن نے مزید کہا ہے کہ تاحال 5 ہزار 206افرادکے وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہے۔مجموعی طور پر 18ہزار264 افراد کو صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال سے فارغ کیا گیا ہے۔کمیشن نے کہا ہے کہ 6 لاکھ 6 ہزار 37 قریبی رابطوں کا پتہ چلاہے جن میں سے 28 ہزار 804 افراد کو جمعرات کے روز طبی نگرانی سے فارغ کر دیا گیا جبکہ 1 لاکھ 20 ہزار 302 افراد تاحال طبی زیرنگرانی رکھے گئے ہیں۔جمعرات کے اختتام تک ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے سے2ہلا کت سمیت 68مصدقہ کیسز کی اطلاع ملی ہے جبکہ مکا خصوصی انتظامی علاقے سے10مصدقہ کیسز اور تائیوان س1 ہلاکت سمیت 24 کیسز کی رپورٹ موصول ہوئی ۔ہانگ کانگ میں 5،مکا میں 6 اور تائیوان میں 2 افراد کو صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال سے فارغ کیا گیا ۔چین میں ووہان ہسپتال میں نوول کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر پھنگ اِنہوا وائرس کے با عث انتقال کر گئے۔ یہ بات مقامی صحت بیورو نے بتائی ہے۔ امراض تنفس کی شدید بیماریوں کا علاج کرنے والے 29 سالہ طبی ماہر پھنگ ووہان کے ضلع جیانگ شیا کیفرسٹ پیپلز ہسپتال میں نوول کرونا وائرس سے نمٹنے کے دوران خود وائرس سے متاثر ہوئے۔ انہیں 25جنوری کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا اور 30جنوری کو علاج کے لئے ووہان کے جِن اِن تھان ہسپتال میں منتقل کیا گیا ۔ووہان کے جِن اِن تھان ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ان کی زندگی کی بچانے کی سرتوڑ کوششیں کی تاہم وہ جمعرات کی شب انتقال کر گئے ۔جیانگ شیا ضلع کے مقامی صحت بیورو نے پھنگ کی موت پر دکھ کا اظہا رکیا ہے اور ان کے اہلخانہ سے تعزیت کی ہے ۔چین کے صحت حکام نے مقامی صحت ایجنسیوں کو تاکید کی ہے کہ وہ مرنے والے میڈیکل ارکان کو شہید کا اعزاز عطا کر وانے کے لئے ویٹرن افئیرز حکام کے ساتھ رابطہ کریں اور مرحومین کے اہلخانہ کو دلاسہ اور ان کی مشکلات حل کرنے میں مدد کے ساتھ ساتھ ان افراد کی کہانیوں کی تشہیر کریں جنہوں نے وبائی مرض کے دوران اپنی جانوں کی قربانی دی ۔مشرقی چین کی ایک جیل میں مجموعی طور پر 207مریضوں میں نوول کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ،یہ بات صوبہ شان ڈونگ کی حکومت نے پریس کانفرنس کے دوران بتائی ۔مقامی انتظامیہ نے جینان شہر میں واقع رنچھنگ جیل میں تمام متعلقہ افراد کے نیوکلک ایسڈ ٹیسٹ مکمل کر لئے ہیں اور 207 مصدقہ کیسز کی اطلاع دی ہے ۔اس وقت تمام مصدقہ مریضوں کو الگ تھلگ رکھنے اور ان کے علاج کے لئے مؤثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔جیل کے ایک افسر کو 12فروری کو کھانسی کی علامات ظاہر ہونے کے بعد ہسپتال میں الگ تھلگ رکھا گیا۔ اس سے اگلے دن نیوکلک ایسڈ ٹیسٹ کے بعد اس میں نوول کرونا وائرس نمونیا کی تشخیص ہوئی ۔صوبائی حکومت نے فوری طور پر جیل کے اندر خصوصی انتظامات،صحت کی جانچ اور قرنطینہ کے کام کا آغاز کردیا ہے ۔شمال مغربی چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے 148سیاحتی مقامات نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک بھر کے طبی کارکنوں کے لئے ترجیحی پالیسی فراہم کرے گا جس میں 2020 کے اختتام تک مقامات کی مفت سیر بھی شامل ہے ۔جن سیاحتی مقامات میں طبی عملے کے لئے ٹکٹ سے چھوٹ کا اعلان کیا ہے ان میں چین کے سب سے اعلیٰ 5 اے ریٹنگ کے حامل 13مقامات مثلا چھانگ جی ہوئی کے خود اختیار پریفیکچر میں تھیان چھی جھیل بھی شامل ہے۔مجموعی طور پر پریفیکچر کے 47سیاحتی مقامات طبی عملے اور ان کے اہل خانہ کے لئے 31مارچ 2021تک ٹکٹ سے چھوٹ فراہم کریں گے ۔الی قزاق خود اختیار پریفیکچر کے نالات گراس لینڈ سیاحتی مقام نے سنکیانگ کے ان طبی کارکنوں اور ان کے قریبی اہل خانہ مثلا ًوالدین کو 2020کے اختتام تک مفت ٹکٹ دینے کا اعلان کیا ہے جنہوں نے ووہان کو نوول کرونا وائرس سے نمٹنے میں مدد فراہم کی ۔چین کے جنوب مغربی شہر گوئی یانگ میں حکام نے نوول کرونا وائرس وبائی مرض سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کیلئے مفت ٹیکسی سروس کا آغاز کردیا ہے ۔میونسپل ٹرانسپورٹ حکام نے کہا ہے کہ اس سروس کا آغاز جمعرات کے روز کیا گیا جس کے تحت 1ہزار ٹیکسیوں کے ذریعے شہر میں وبائی مرض کے خلاف اگلی صفوں میں خدمات سرانجام دینے والے طبی کارکنوں اور پولیس افسران کو بغیر کسی معاوضے کے ٹیکسی سروس فراہم کی جائے گی ۔طبی کارکن اور پولیس افسران اپنے طے شدہ شیڈول سے 2گھنٹے قبل ہی ٹیلی فون ہاٹ لائن کے ذریعے آمدورفت کے لئے اپنا آرڈر بک کرسکیں گے ۔انفیکشن کے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لئے ڈرائیورز کا درجہ حرارت چیک کیا جائے گا جبکہ انہیں چہرے کے ماسک پہننا ہوں گے اور دن کو سفر کے آغاز سے قبل ان کی ٹیکسیوں کو احتیاط کے ساتھ جراثیم سے صاف کیا جا ئے گا ۔ایران میں کرونا وائرس کے باعث عراق نے جمعرات کے روز ایران کے ساتھ اپنی زمینی سرحدیں 3 روزکیلئے بند کردی ہیں ۔یہ بات سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے جمعہ کے روز رپورٹ کی ہے ۔ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ عراقی ائیرویز نے جمعرات کے روز وائرس کے پھیلا ؤکے خدشہ کے پیش نظر ایران کے ساتھ پروازیں منسوخ کردیں ۔اسی طرح عراق نے جمعرات کے روز ایرانی شہریوں کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی اور اپنے شہریوں پر ایران کا سفر کرنے کی پابندی عائد کردی ۔یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے وسطی شہر قم میں وائرس سے 5افراد کے متاثر ہونے کا اعلان کیا، ایرانی وزارت صحت کے مطابق ان میں سے 2 متاثرہ افراد کی موت واقع ہوچکی ہے ۔قومی صحت کمیشن کے ایک سینئر عہدیدا رنے کہا ہے چینی سائنسدان ٹیکنالوجی پر مبنی پانچ نکتہ ہائے نظر اپناتے ہوئے نوول کرونا وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ۔کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر زنگ ایشِن نے جمعہ کے روز نوول کرونا وائرس وبائی مرض کے خلاف چین کی جدوجہد کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کچھ منصوبے جانوروں پر تجربات کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ویکسین کے تحفظ کی یقین دہانی،مؤثریت اور فرا ہمی کو یقینی بناتے ہوئے ہم پیش گوئی کر سکتے ہیں کہ رواں سال یہ ویکسین اپریل سے مئی تک طبی تجربات کے مرحلے میں داخل ہوجائے گی یا پھر مخصوص حالات میں اس کا ہنگامی استعمال بھی شروع کیا جا سکتا ہے ۔عہدیدار کے مطابق ہمارا ہدف یہ ہے کہ اگر وباکے پھیلا ئو کی صورتحال میں ضروری ہوا تو ویکسین کا ہنگامی استعمال ، اس کے ساتھ ساتھ ہنگامی جائزہ اور اس کی منظوری کے عمل کو قانون کے مطابق تیز کیا جائے گا ۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں