چین،کرونا وائرس سے مزید 73افراد ہلاک

مجموعی ہلاکتیں563،متاثرہ افرادکی تعدادد 28ہزار1800 ہوگئی،3859مریضوں کی حالت تشویش ناک ، 1153افراد کو صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ،قومی صحت کمیشن
ووہان میں نوزائیدے بچے میں کرونا وائرس کی تصدیق، وائرس کاسراغ لگانے والی نئی لیب کا تجرباتی آغاز،چین میں ایشیا کی سب سے بڑی پھولوں کی مارکیٹ میں کاروبارمعطل،چارٹرڈ پروازوں سے بیرون ملک 1500 چینی وطن واپس پہنچ گئے
21ممالک نے چین کو طبی اشیا عطیہ کیں،عالمی برادری کی امداد ، تعاون اور مدد کا خیر مقدم ، جنگ جلد جیتنے کیلئے اہلیت رکھتے ہیں ، ترجمان چینی وزارت خا رجہ ہوا چھون اینگ
بیجنگ/ووہان:چین میں نوول کرونا وائرس کے باعث مزید 73افرادہلاک اور 3694نئے مصدقہ مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد563جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 28ہزار1800 ہوگئی ہے جن میں سے 3859افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔ جمعرات کو چینی محکمہ صحت نے بتایاہے کہ یہ اعدادوشمار 31صوبائی سطح کے علاقوں اور سنکیانگ پیداوری اورتعمیراتی کورپس سے موصول ہوئے ہیں۔چین کے قومی صحت کمیشن کے مطابق مرنے والوں میں 70کاتعلق صوبہ ہوبے سے ہے جبکہ 1 کا تعلق تھیان جن ،1 کاحئی لونگ جیانگ جبکہ 1 کا تعلق گوئی چو سے ہے ۔مزید 5 ہزار 3 سو 28مشتبہ کیسز بدھ کے روز رپورٹ ہوئے ۔اسی طرح بدھ کے روز 640مریض شدید بیمار ہوئے جبکہ 261مریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے ۔بدھ تک چین میں کرونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 28 ہزار 18تک پہنچ گئی ہے جبکہ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس مرض سے مرنے والوں کی کل تعدا د563ہوگئی ہے ۔کمیشن نے مزید بتایا کہ ان میں سے 3859مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 24 ہزار 7 سو2افراد کے بارے میں وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہے ۔مجموعی طور پر 1153افراد کو صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے جبکہ کمیشن نے کہاہے کہ وائرس سے قریبی رابطے کے 2 لا کھ 82 ہزار 8 سو 13 کیسز کا پتہ چلا ہے۔کمیشن کے مطابق ان میں سے 21 ہزار 3 سو 65کو بدھ کے روز طبی معائنے کے بعد فارغ کردیا گیا ہے اور 1 لاکھ 86 ہزار 3 سو 54افراد کو تاحال طبی زیرنگرانی رکھا گیا ہے ۔بدھ کے اختتام تک ہانگ کانگ کے خصوصی انتظامی علاقے سے 21مصدقہ مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے ان میں ایک کی موت واقع ہوئی جبکہ مکا کے خصوصی انتظامی علاقہ سے 10اور تائیوان سے 11مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے ۔ادھر وسطی چین کے شہر ووہان میں ایک نوزائیدے بچے میں پیدائش کے30گھنٹے بعد ہی نوول کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی، یہ بات مقامی ہسپتال نے بتائی ۔یہ بچہ جو 2فروری کو پیدا ہوا اب تک وائرس سے متاثر ہونے والا سب سے کم عمر مریض ہے۔ہوا چونگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تھونگ جی میڈیکل کالج سے منسلک ہسپتال نے کہا ہے کہ اس بچے کی پیدائش سے قبل اس کی والدہ میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نوول کرونا وائرس کے ماں سے بچے کو منتقل ہونے کا ممکنہ کیس لگتا ہے ۔یہ بچہ جس کا وزن پیدائش کے وقت 3.25کلو گرام تھا اب اس کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے ۔چین میں ایشیا کی سب سے بڑی کھن منگ دونان پھول مارکیٹ نے وبائی مرض کے پھیلائو کے باعث خدمات ملتوی کردیں۔ یہ بات وبائی مرض پر قابو پانے سے متعلق ہیڈکوارٹرز نے بتائی ۔اس مارکیٹ نے اس سے قبل 26جنوری کو پھولوں اور پودوں کی تجارت ، سیاحت اور کیٹرنگ کی خدمات بند کردی تھیں تاکہ لوگوں کے اکٹھے ہونے کی وجہ سے وائرس کے پھیلا کے خطرے سے بچا جاسکے ۔چین کے پھولوں کی مارکیٹ کا ایک پیمانہ ہونے کی حیثیت سے جنوب مغربی چین کیصوبہ یونان کی کھن منگ میں قائم اس مارکیٹ میں 2019کے دوران تازہ کٹے ہوئے پھولوں کی تجارت کا حجم 9ارب 23کروڑ تھا جبکہ پھولوں کے کاروبار کا مجموعی حجم 7ارب44کروڑ یوان (1ارب 7کروڑ امریکی ڈالر )تھا ۔چین نوول کرونا وائرس کی وجہ سے صوبہ ہوبے کے بیرون ملک گھرے ہوئے 1500رہا ئشیوں کو 12 چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے واپس لا چکا ہے۔چین کی شہری ہوابازی کی انتظامیہ (سی اے اے سی)کے اہلکار یو بیا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انتظامیہ دیگر ممالک میں ابھی تک گھرے ہوئے چین کے سیاحوں کو سفارتخانوں، قونصل خانوں، ثقافتی اور سیاحتی اداروں کی مدد سے وطن واپس لانے کیلئے مزید چارٹرڈ پروازیں چلائے گی۔انہوں نے مزید کہاکہ سی اے اے سی کام کرنے کی اہل ہے اور اس کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار ہے۔چین میں نوول کورونا وائرس سے متاثرہ ووہان شہر میں نئے وائرس کا سراغ لگانے کیلئے ایک لیبارٹری نے تجرباتی بنیادوں پر کام شروع کردیا ہے ۔جمعرات کو پیپلز ڈیلی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس لیبارٹری کا مقصد کوروناوائرس کے ٹیسٹس میں تیزی لانا ہے ۔ہویان کے نام سے بننے والے اس نئی لیبارٹری کو مقامی حکومت اور دیگر اداروں نے مل کر تعمیر کیا ہے ۔یہ لیبارٹری تقریبا 2ہزار مربع میٹر اراضی پرمحیط ہے اور اس میں روزانہ 10 ہزار نمونے ٹیسٹ کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔رپورٹ کے مطابق اس لیب سے ووہان اور اس کے نواحی شہروں کروناوائرس کے ٹیسٹ کرانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا ۔دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چھون اینگ نے بتایا ہے کہ کچھ دیگر ممالک نے اشیا فراہم کرنے کیلئے آمادگی کا اظہار کیا ہے جبکہ کئی ممالک کے لوگوں نے وائرس کے خلاف امداد کی پیشکش کی ہے جسے ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چین عالمی برادری کی جانب سے امداد ، تعاون اور مدد کو خوش آمدید کہتے ہوئے شکریہ ادا کرتا ہے ۔ہوا نے کہاکہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے حال ہی میں ایک بار پھر ٹویٹ پر چینی زبان میں چین کی جانب سے انسداد کرونا وائرس کے اقدامات کی تعریف کر تے ہوئے سراہا ہے جو کہ دونوں ممالک کے عوام کے مابین مخلص اور روایتی دوستی کا مظاہرہ ہے۔ہوا نے مزید کہاکہ ایران نے چین کو30 لاکھ طبی ماسکز دئے ہیں اور وائرس کیخلاف چین کی جنگ میں مزید امداد دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ہوا نے کہاکہ جمہوریہ کوریہ کے صدر مون جے ان ، کمبوڈیا کے وزیراعظم سمدچ ٹیکو ہون سین اور دیگر کئی ریاستوں کے رہنماں اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے چین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اپنے شہریوں، علاقائی اور عالمی سطح پر عوام کی صحت میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے شفاف، ذمہ دارانہ انداز میں معلومات فراہم کرتے ہوئے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرتا رہے گا۔ہووا نے کہاکہ ہم یہ جنگ جلد جیتنے کیلئے اہلیت رکھتے ہیں اور مکمل پر اعتماد ہیں۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں