استور کے متاثرین زلزلہ کی بحالی کے لیے اقدامات کررہے ہیں،علی امین گنڈا پور

35ہزار متاثرین زلزلہ کی زندگیوں کا شدید خطرات لاحق ،مشتا ق ایڈووکیٹ
اسلام آباد: جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر گلگت بلتستان کے قائمقام امیر سابق وزیر قانون مشتاق ایڈووکیٹ نے وفد کے ہمراہ وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور سے استور کے متاثرین زلزلہ کے مسائل کے حوالے سے ملاقات کی ،وفد میں جماعت اسلامی سیاسی امور کے چیئرمین مولانا عبدالسمیع،پیپلز پارٹی کے سابق وزیر نصیر خان ،سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی راجہ ذاکر خان ،محمد قاسم سمیت دیگر قائدین شامل تھے ،ملاقات کے موقع پر وفد کی قیادت کرتے ہوئے مشتاق ایڈووکیٹ نے کہا کہ 35ہزار متاثرین زلزلہ شدید مشکلات کا شکار ہیں ،منفی 18ڈگری سینٹی گریٹ درجہ حرارت کی وجہ سے کئی بچوں کی اموات ہو چکی ہیں بزرگ اور خواتین 4فٹ برف کی وجہ سے موت میں جاسکتے ہیں انسانی المیہ رونما ہونے سے قبل وفاقی حکومت متاثرین استور کی زندگیوں کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ،مسلسل زلزلے کے جھٹکے آرہے ہیں غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ زلزلے کا مرکز ڈوئیاں یونین کونسل ہے ،تا حال جیالوجیکل سروے نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین زیادہ پریشان ہیں کہ وہ یہاں رہیں یا ہجرت کرجائیں ،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر امور کشمیر نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ متاثرین کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے جیالوجیکل سروے بھی کروایا جائے گا ،اس موقع پر وفد نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جس میں لکھا گیا ہے کہ منفی 18ڈگر ی سینٹی گریٹ درجہ حرارت کی وجہ سے استور میں متاثرین زلزلہ شدید مشکلات کا شکار ہیں ،خیموں میں شدید سردی کی وجہ سے بچوں کی اموات ہو رہی ہیں جو ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ،اتنے دن گزرنے کے باوجود ابھی تک متاثرین کو شلٹر تک فراہم نہیں کیے گے جس کی وجہ سے شدید سردی کے باعث مزید اموات کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے مسلسل زلزلے کے جھٹکے آرہے ہیں حکومت گلگت بلتستان نے ابھی جیالوجیکل سروے تک نہیں کروایا کہ یہ علاقہ قابل رہائش ہے بھی کہ نہیں عوام میں شدید خوف وحراس پایا جارہا ہے ،یونین کونسل ڈوئیاں 3ہزار گھرانوں پر مشتمل ہے ان میں سے 500گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں 2500گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے 500سے زائد مویشی خانے اور مویشیوں کا نقصان ہوا ہے،گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے ضلع استور میں شدید برف باری جاری ہے جس کے باعث لوگ کھلے آسمان تلے شدید سردی کے موسم میں پڑے ہیں،ضلع استور کی یونین کونسل ڈوئیاں کا جیالوجیکل سروے کرایاجائے تا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ علاقے انسانی آبادی کے رہنے کے قابل ہیں کہ نہیں خدا نخواستہ اچانک کوئی بڑا زلزلہ یاد ھماکے سے بڑا نسانی المیہ رونماہو سکتا ہے حکومت پاکستان فوری طور پر ان متاثرین کی بحالی کے لیے پیکج کا اعلان کرے ۔ایسا نہ کیا گیا تو متاثرین سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے حکومت پاکستان کی ذمہ داری تھی کہ وہ فوری طور پر اقدامات کرتی لیکن تا حال اس طرح کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ، ،لوگوں کی آباد کاری کے لیے حکومت پاکستان خصوصی پیکیج کا اعلان کرے اور نقصانات کے تخمینے کی روشنی میں لوگوں کے گھر،جائیداور مویشیوں کے نقصانات کی تلافی کے لیے معقول معاوضوں کا اعلان کرے،علاقے میں موجود این جی اوز میں الخدمت فائونڈیشن اور دیگر نے اشیاء خوردنی ،بستر اور ٹینٹ پہنچا کر لوگوں کو ریلیف دیا ۔حکومت پاکستان فوری طور پر ان متاثرین کی بحالی کے لیے پیکج کا اعلان کرے ۔ایسا نہ کیا گیا تو متاثرین سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے حکومت پاکستان کی ذمہ داری تھی کہ وہ فوری طور پر اقدامات کرتی لیکن تا حال اس طرح کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا وفاقی حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے یہ لوگ اسلام آباد کی طرف مارچ اور وزیر اعظم ہائوس کے باہر دھرنا دے سکتے ہیں وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مزید غفلت کا مظاہر ہ نہ کرے ورنہ حالات کی سنگینی کی خود ذمہ دار ہو گی ۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں