فاطمہ ثریا بجیا کو دنیا چھوڑے 4برس بیت گئے

کراچی :معروف ڈرامہ نویس اور ادیب فاطمہ ثریا بجیا کو دنیا چھوڑے چار برس بیت گئے ۔مشہور رائٹر انور مقصود کی ہمشیرہ فاطمہ ثریا بجیا 1930میں بھارت کے شہر حیدر آباد میں پیدا ہوئیں اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان منتقل ہو گئیں۔فاطمہ ادبی دنیا کا روشن ستارہ تھیں جن کی لا زوال خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ فاطمہ آپا نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کیلئے لا تعداد ڈرامے تحریرکئے اور اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔فاطمہ ثریا بجیا کے مشہور ڈراموں میں عروسہ، شمع، آبگینے، افشاں اور سسی پنوں سمیت ان گنت ڈرامے قابلِ ذکر ہیں۔حکومتِ پاکستان کی جانب سے فاطمہ کوان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں1997 میں تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا جبکہ 2012میں فاطمہ کوہلالِ امتیاز بھی دیا گیا۔ فاطمہ آپا نے جاپان سمیت کئی بین الاقوامی اعزازات بھی حاصل کئے۔اردو ادب کایہ چمکتا ستارہ طویل علالت کے بعد 10فروری 2016کو بجھ گیا تاہم اس کی روشنی رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں