وزیراعظم عمران خان کا چینی صدر کو ٹیلیفون

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر شی جن پنگ کو جمعرات کو ٹیلیفون کیا اور کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں چین کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی طرف سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے کرونا وائرسے ہونے والے قیمتی جانی نقصان پر چین کے صدر کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کرونا وائرس کی روک تھام اور قابو پانے کے لئے چین کی طرف سی کی جانے والی انتھک کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے خاتمہ کے لئے کی جانے والی کوششوں میں پاکستان کے عوام اور حکومت چین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس بیماری کی روک تھام کے لئے چین کے بروقت مؤثر اور دور رس اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کرونا وائرس سے بچائو کے لئے چین کے عوام کی مدد کرنے کے لئے فیلڈ ہپستال اور ڈاکٹروں کی ٹیم چین بھجوانے کی پاکستان کی پیش کش کا بھی اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے اس امر پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا کہ چینی قوم صدر شی جن پنگ کی بے مثال قیادت میں موجودہ صورتحال میں مضبوط اور فتح مند ہوکر ابھر کر سامنے آئے گی۔ وزیراعظم نے اس مشکل گھڑی میں پاکستانی شہریوں کی دیکھ بھال کے لئے چین کے پختہ عزم اور خصوصی انتظامات کو بھی سراہا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ چین وہاں پاکستانی شہریوں اور طلباء کی دیکھ بھال کے لئے بہترین ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔ چین کے صدر نے اس نازک وقت میں پاکستان کی طرف سے چین کی حمایت پراظہار تشکر کیا اور کہا کہ چین کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے مؤثر، بروقت اور بھرپور اقدامات کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ۔19 کے خلاف جاری عوام کی جنگ میں سرخرو ہو کر سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستانی طلباء کے ساتھ اپنوں جیسا سلوک کر رہا ہے اور ان کی حفاظت، صحت اور بھلائی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ صدر شی جن پنگ نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی شراکت داری کونئی بلندیوںتک لے جانے کے چین کے عزم کا اظہار کیااور کہاکہ ان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے سی پیک اہم ثابت ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان اور چین کے صدر نے تزویراتی تعاون پر مبنی شراکتداری کو مزید مضبوط بنانے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے لئے چین اور پاکستان کے عوام کے درمیان قریبی رابطے کو فروغ دینے کے لئے رابطے اور اعلیٰ سطح کے وفود کے دوروں کا سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔
واضح رہے کہ چین میں نوول کرونا وائرس کے باعث مزید 114افراد ہلاک اور 394نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 2118 اور متاثرہ افراد کی تعداد 74ہزار576 ہوگئی جبکہ شدید بیمار مریضوں کی تعداد 113کی کمی سے 11ہزار 864 رہ گئی ۔چین میں نوول کرونا وائرس کے باعث صوبائی سطح کے 31 علاقوں اور سنکیانگ پیداواری اور تعمیراتی کارپس میں نوول کرونا وائرس کے 394 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ بدھ کے روز 114 افراد ہلاک ہوگئے۔ جمعرات کو قومی صحت اتھارٹی نے بتایا ہے کہ ہلاکتوں میں سے 108 صوبہ ہوبے میں ہوئیں جبکہ ہیبی، شنگھائی، فوجیان، شان ڈوگ، یونان اور شانشی میں ایک ایک ہلاکت ہوئی۔کمیشن نے بتایا کہ ہوبے میں بدھ کے روز 349 نئے تصدیق شدہ کیس رپورٹ ہوئے جبکہ 615 وبا کے مرکز صوبے کے صدرمقام ووہان میں شامل ہیں۔ صوبے کے 10 دیگر شہروں میں طبی لحاظ سے تشخیص کئے گئے 279 کیسز کی تعداد کم ہوگئی ہے کیونکہ مریضوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔چین نے گزشتہ ہفتے نوول کرونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تشخیص کا طریقہ کار بدل دیا تھا جس میں نمونیا کے مشتبہ مریضوں سے متعلق سی ٹی سکین کے نتائج کو طبی لحاظ سے تشخیص سمجھا جائے گا۔کمیشن نے کہا کہ بدھ کے روز 1ہزار277نئے مشتبہ کیس سامنے آئے۔ بدھ ہی کے روز 1ہزار779 مریضوں کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا جبکہ شدید بیمار مریضوں کی تعداد 113کی کمی سے 11ہزار 864 رہ گئی ہے۔ بدھ کے آخر تک چینی مین لینڈ پر تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 74ہزار576جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 2ہزار 118 ہوگئی ہے۔کمیشن نے مزید کہا کہ 4 ہزار 922 افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کا تاحال شبہ ہے۔ 16ہزار155 افراد کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کیا جا چکا ہے۔کمیشن نے کہا کہ 5 لاکھ 89 ہزار 163 قریبی رابطہ کاروں کا پتہ لگایا گیا ہے جن میں سے 25 ہزار 318 افراد کو بدھ کے روز طبی نگرانی سے فارغ کر دیا گیا جبکہ 1 لاکھ 26 ہزار 363 افراد تاحال طبی نگرانی میں رکھے گئے ہیں۔بدھ کے آخر تک ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقہ میں 2 ہلاکتوں سمیت 65 مصدقہ کیس، مکا خصوصی انتظامی علاقہ میں 10مصدقہ کیس جبکہ تائیوان میں ایک ہلاکت سمیت 24 کیس سامنے آئے۔ ہانگ کانگ میں5، مکا میں 6 اور تائیوان میں 2 مریضوں کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں