اسد قیصر کی پاکستان میں تعینات نیدر لینڈ کے ویلم ووٹر پلومپ سے ملاقات

اسلام آباد : سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان نیدر لینڈ کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے، پاکستان نیدر لینڈ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو پارلیمانی سفارتی کاری کے ذریعے مزید مستحکم بنانا چاہتا ہے، موجودہ حکومت سرمایہ کاری دوست پالیسی کے تحت دوست ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتی ہے، پاکستان نیدر لینڈ کے ساتھ تجارت، صنعت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے، مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 6ماہ سے کرفیو نافذ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پاکستان میں تعینات نیدر لینڈ کے ویلم ووٹر پلومپ سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان نیدر لینڈ کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان نیدر لینڈ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو پارلیمانی سفارتی کاری کے ذریعے مزید مستحکم بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سرمایہ کاری دوست پالیسی کے تحت دوست ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ پاکستان نیدر لینڈ کے ساتھ تجارت، صنعت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان زراعت کے شعبے میں نیدر لینڈ کی مہارت سے مستفید ہونے کا خواہاں ہے ۔ پاکستان اور نیدرلینڈ کے مابین اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے وسیع مواقع پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک میں پائے جانے والے تجارتی مواقع سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان ایک پرْامن ملک ہے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 6ماہ سے کرفیو نافذ ہے۔ بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈ انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کا علمبردار ملک سمجھا جاتا ہے۔ نیدر لینڈ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ملاقات میں نیدر لینڈ کے سفیر نے کہا کہ نیدر لینڈ پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیے کر موجودہ تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ۔ پاکستان کی طرف سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے قانون سازی قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اور نیدر لینڈ کے مابین زرعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیدر لینڈ پاکستان کو آلو کی پیدوار میں اضافے کے لیے آلو کے بیچ کی برآمدکے علاوہ ڈیری فارمنگ اور پھولوں کی کمرشل بنیادوں پر کاشت کے لیے معاونت فراہم کر سکتا ہے۔ نیدر لینڈ کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں