حکومت نے کرونا وائرس کے معاملہ پر احتیاطی تدابیر اختیار کی ،صدر مملکت

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں، فلاحی کاموں کے حوالہ سے دنیا میں پاکستانی قوم نمایاں مقام رکھتی ہے، مشکل چیلنجز کے باوجود لوگوں کیلئے صحت کی سہولیات، پناہ گاہوں کے حوالہ سے اقدامات کئے جا رہے ہیں، مخیر حضرات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، حکومت امیر لوگوں سے ٹیکس وصول کرکے ضرورت مندوں پر خرچ کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو المعراج حبیب ٹرسٹ ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ فلاحی کاموں کے حوالہ سے دنیا میں پاکستانی قوم نمایاں مقام رکھتی ہے، پاکستان میں مخیر حضرات دل کھول کر خیرات دیتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں زلزلہ آنے پر ہر گھر میں بے چینی تھی، شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم نے جذبہ اور ایثار کے ذریعے مسلمانوںکو متاثر کیا اور ہمیں حضرت محمد کی سیرت طیبہ سے اس حوالہ سے رہنمائی ملتی ہے، انسانی تاریخ میں اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے، صحابہ کرامؓ میں یہی جذبہ کارفرما تھا اور یہی جذبہ ہمارے لئے بھی قابل تقلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان میں اس جذبہ اور احساس کی ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل صورتحال کے باوجود لوگوں کیلئے صحت کی سہولیات، پناہ گاہوں کے حوالہ سے اقدامات کئے جا رہے ہیں، مخیر حضرات کو بھی اس تناظر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ کوئی شخص بھوکا نہ سوئے اور ہر شخص کو شیلٹر ملے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے، معاشرہ کے نادار طبقہ کی کفالت ریاست کی اہم ذمہ داری ہے، ریاست ایک نظام وضع کرتی ہے جس کے تحت امیر لوگوں سے ٹیکس وصول اور ضرورت مندوں پر خرچ کیا جاتا ہے تاکہ تمام لوگوں کو صحت اور تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کئے جا سکیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ انسانی حقوق کے علمبردار مغربی معاشرہ نے بے سہارا مہاجرین پر اپنے دروازے بند کر دیئے، پاکستان نے مشکل حالات میں 51 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی اور اس وقت بھی 26 لاکھ افغان مہاجرین میں پاکستان میں موجود ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی تباہی میں وہی ممالک ملوث ہیں جنہوں نے غلط خبروں کا پرچار کیا، تباہ کن ہتھیاروں کے نام پر افغانستان سے لیبیا تک تباہی پھیلائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورہ پاکستان کے دوران انہیں بتایا کہ پاکستان قوم، پارلیمنٹ اور میڈیا میں سے کسی نے بھی افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی کی مخالفت نہیں کی، پاکستانیوں کا یہی جذبہ دنیا کے مقابلہ میں قابل فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتیاط علاج سے زیادہ بہتر ہے، کرونا وائرس وبائی بیماری ہے اور حکومت نے کرونا وائرس کے معاملہ پر احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں