کورونا وائرس کی اب تک کی صورتحال ہماری کنٹرول میں ہیں ، ترجمان حکومت بلوچستان

کوئٹہ :بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی اب تک کی صورتحال ہماری کنٹرول میں ہیں ، بلوچستان کے راستے کسی کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت نہیں ہے ، کورونا کو جانچنے کے لئے وزیراعلیٰ بلوچستا ن خود ٹیموں کو مانیٹر کررہے ہیں ، بارڈرز پر مشینری ، میڈیکل کی سہولیتیں دستیاب ہیں ، آرمی اور دوسری سرحدی فورسز کی کاوشیں بھی رنگ لائی ہیں جن کی بدولت آج ہم سب سکون سے ہیں ، بلوچستان نے ملک کے22کروڑ عوام کو بچانے کے لئے تمام بوجھ اپنے کندھوں پر لیا ہوا ہے ، یونیسیف کی تعاون سے آگاہی مہم کے معلوماتی کتابچے تمام اضلاع میں پہنچادیئے گئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں محکمہ صحت بلوچستان، نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام کے تحت منعقدہ سمینار سے خطاب کے دوران کیا ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر فہیم آفریدی اور محکمہ صحت کے دوسرے حکام بھی موجود تھے ۔ لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ آج کے سیشن کا انعقاد کورونا وائرس کی وباء اور اس سلسلے میں بلوچستان حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات سے عوام کومیڈیا کے ذریعے آگاہ کرنا ہے تاکہ کورونا وائرس سے بچائو سے متعلق احتیاطی تدابیر سے عوام کو آگاہ کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس نے دنیاکے 80سے زیادہ ممالک کو متاثر کیا ہے اب تک ایک لاکھ 29ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ان میں سے 57ہزار 3سو 31مریض صحت یاب ہوئے ہیں جبکہ 35سو 11مریضوں کی اموات ہوئی ہیں ۔ یہ وائرس بہت جلد ایک دوسرے میں منتقل ہوجاتا ہے ۔ چین کے بعد اس نے ایران او رافغانستان کو بھی متاثر کیا ہے جن کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں ایران میں اب تک 4ہزار7سو47کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ایک سو 24 اموات ہوئی ہیں ۔ پاکستان میں اب تک 2سو 62مشتبہ کیسز کی جانچ پڑتال کی گئی ہے جن میں سے 2سو 56افراد میں اس کی بیماری کے نہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے پاکستان میں مصدقہ کیسز کی تعداد 6ہے ۔ بلوچستان میں کورونا وائرس کی اسکریننگ کی غرض سے اب تک 76ہزار5سو87افراد کی جانچ پڑتال کی گئی ہے جن میں سے 3ہزار4سو12کو جو کہ ایرانی زائرین ہیں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے ۔اب تک 15مشتبہ کیسز کو ریفرنس لیب بھیجا جاچکا ہے جن میں سے 12افراد کے اس بیماری میں ملوث ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی جبکہ 3کے نتائج آنا باقی ہے ۔ بلوچستان میں اب تک کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے ۔ اس سے مزید احسن طور پر نمٹنے کے لئے سول سیکرٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے جو 24گھنٹے فعال رہتا ہے۔ ڈی جی صحت کے دفتر میں ڈبلیو ایچ او FELTPکی تکنیکی معاونت سے ایک آپریشن سیل کا ابتدائی طور پر پاک ایران اور پاک افغان راستوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے تاکہ اسکریننگ کے عمل اور کورونا کے کیسز کو دیکھا جاسکے ۔ پاکستان ہائوس تفتان کو قرنطینہ کے لئے منتخب کیا گیا ہے جہاں 4ہزار8سو34افراد جن کی ایران جانے سے متعلق معلومات تھی کی اسکریننگ کی گئی اور 3ہزار4سو12کو قرنطینہ میں رکھا گیا کورونا وائرس کی وباء کے صوبے میں داخلے کو روکنے کے لئے سرحدی علاقوں چاغی ، پنجگور ، کیچ ، واشک ، گوادر ، قلعہ عبداللہ ، قلعہ سیف اللہ ، ژوب ، پشین ، کوئٹہ اور لسبیلہ کو چنا گیا ہے ۔ تفتان میں پاکستان ہائوس اور کوئٹہ میں شیخ زید ہسپتال کو قرنطینہ سینٹر قرار دیا گیا ہے ۔ فاطمہ جناح چیسٹ ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال میں علیحدہ آئسولیشن کمروں کاقیام عمل میں لایا گیا ہے جبکہ ضلعی ہسپتالوں میں بھی علیحدہ کمروں کا انتظام کیا ہے ۔ فاطمہ جناح چیسٹ ہسپتال کو کورونا تشخیصی ٹیسٹ کے حوالے سے ریفرنس لیب بنا دیا گیا ہے ۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان نے کہاکہ سیکرٹری صحت اور ڈی جی صحت نے دوسرے محکموں کے تعاون سے کورونا کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے ہیں ۔ انفیکشن سے بچائو اور کنٹرول سے متعلق 11سو 57افراد کی تربیت کی گئی جن میں سے 3سو12کا تعلق بارڈر سے منسلک اضلاع سے ہیں ۔ محکمہ صحت نے آپریشنل سیل میں میڈیا کوآرڈنیٹر اور فوکل پرسن برائے میڈیا تعینات کیا ہے ۔ صوبے میں مواصلاتی کام زور و شور سے جاری ہے اور ہر ضلع کو اس میں شامل کیا گیا ہے جہاں یونیسیف کے تعاون سے آگاہی مہم جاری ہے ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بھی اس پروگرام کو گھر گھر پہنچایا جارہا ہے ۔ مقامی زبانوں میں کتابچے بھی لوگوں تک پہنچائے جارہے ہیں اور مزید کتابچے شائع کروانے کا عمل جاری ہے ۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر فہیم آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ مار چ میں ٹی بی کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس سمیت دیگر تمام صحت سے متعلق ایام میں کورونا کو سرفہرست رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چمن بارڈر پر 2دن پہلے مشتبہ کیس چیک کرنے پر درست پایا گیا ۔ وہ لوگ جن کے گھروں میں باہر ممالک سے لوگ آتے جاتے ہیں ان کو بھی اسکریننگ کرالینی چاہیے کیونکہ یہ مرض بڑی تیزی کے ساتھ دوسرے شخص میں منتقل ہوجاتا ہے ۔ پاکستان ہائوس میں 3ہزار لوگ موجود ہیں حکومت اگر انہیں لانا چاہتی ہے تو لے آئے ۔ انہوں نے کہا کہ جتنے بھی مراکز قائم کئے گئے ہیں تمام میں عملہ متحرک انداز میں کام کررہا ہے جن کی مسلسل مانیٹرنگ کا عمل بھی جاری ہے ۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں