کورونا وائرس :پاک ایران بارڈرز تاحال بند

کورونا وائرس :پاک ایران بارڈرز بدستور ہرقسم کی آمد ورفت کیلئے تاحال بند
کوئٹہ: ہمسایہ ملک ایران میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد پاک ایران بارڈرز بدستور ہرقسم کی آمد ورفت کیلئے تاحال بند ہے دوسری جانب مرکزی انجمن تاجران کے ترجمان اللہ داد ترین کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی ہے جس میں تفتان بارڈر پر تاجر اور دیگر پاکستانی عوام پاکستان میں داخلے کیلئے التجاء کررہے ہیں دوسری جانب کورونا وائرس کے کراچی میں دو کیسز کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ماسک کی قیمتوں اضافے کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایکشن لئے جانے کا سلسلہ شروع کردیاگیاہے گزشتہ روز کوئٹہ میں میڈیکل سٹورز مالکان کے وفد کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سیدہ ندا کاظمی سے ملاقات کی گئی ہے اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لے کر ماسک کی شارٹیج اور مہنگے داموں فروخت کا سلسلہ روکاجائے گا،تفصیلات کے مطابق پاک ایران سرحد کورونا وائرس سے ایران میں انسانی جانوں کی ضیاع کے بعد بدستور بند ہے جس کی وجہ سے ہرقسم کی آمدورفت کا سلسلہ ترک ہوچکاہے بلکہ ایران سے پاکستان میں داخل ہونے والوں اور سرحد پر موجود افراد کو پاکستان ہائوس میں ڈاکٹرز کی موجودگی میں رکھاگیاہے تاکہ کسی بھی مریض کو کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طورپر آئیسولیشن وارڈ منتقل کیاجائے دوسری جانب ترجمان مرکزی انجمن تاجران اللہ داد ترین کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں ایران بارڈر پرموجود تاجر اور دیگر افراد صوبائی اور مرکزی حکومت سے پاک ایران گیٹ کھولنے کی استدعا کررہے ہیں ،ویڈیو میں دیکھاجاسکتاہے کہ ایران کی طرف موجود پاکستانی شہری ایرانی ڈاکٹرز کی طرف سے دئیے جانے والے سرٹیفکیٹ بھی دکھا رہے ہیں ان کے مطابق ایرانی ڈاکٹرز نے انہیں مکمل صحت مند قراردیاہے بلکہ ان کی خروج کے ٹپے بھی لگوادئیے جاچکے ہیں اس لئے حکومت ان کی مشکلات کاادراک کرتے ہوئے انہیں بلوچستان میں داخلے کی اجازت دیں علاوہ ازیں کورونا وائرس کے ملک میں کیسز کے رپورٹ ہونے کے بعد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں N95 ماسک کی نہ صرف شارٹیج کا مسئلہ پیداہوا تھا بلکہ ماسک کی قیمتوں میں اضافے کی بھی شکایات ملی تھی گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ماسک مہنگے داموں فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کاآغاز کردیاگیااورمختلف میڈیکل سٹورز کو سیل کرنے سمیت جرمانے بھی وصول کئے گئے تھے ۔گزشتہ روز میڈیکل مالکان کے وفد نے سید علی اکبر ودیگر کی سربراہی میں اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سیدہ ندا کاظمی سے ملاقات کی اور انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا میڈیکل ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے اسسٹنٹ کمشنر کو یقین دہانی کرائی کہ نہ صرف ماسک کی شارٹیج کے مسئلے کو حل کیاجائے گا بلکہ ان کی مہنگے داموں فروخت کو بھی روکاجائے گااگر اس کے باوجود بھی کسی میڈیکل سٹور مالک نے منہ مانگی قیمتوں پر ماسک فروخت کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو ضلعی انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی کریںایسوسی ایشن کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا دوسری جانب جمعہ کے خطبات میں کورونا وائرس کے حوالے سے علماء اکرام اور خطباء نے نہ صرف اظہار خیال کیا بلکہ اس سے بچائو کیلئے خصوصی دعائوں کا بھی اہتمام کیا گیا علماء اکرام نے عوام پر زورد یاکہ وہ سوشل میڈیاکے ذریعے غلط افواہیں اور پروپیگنڈہ کرنے سے گریز کریں تاکہ عوام پریشان نہ ہوکیونکہ بغیر تصدیق کے مختلف خبریں چلانا اسلامی اعتبار سے درست نہیں دوسری جانب حکومتی حکام بھی کورونا وائرس سے متعلق افواہین پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے چکے ہیں ۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں