بلوچستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا

سبی:بلوچستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا ہے،رواں سال بلوچستان میں کیسز کی تعداد3ہوگئی ہے سبی کے نواحی علاقہ میں پشین سے تعلق رکھنے والے خانہ بدوش خاندان کے سات سالہ بچہ پولیو وائرس کا شکارپاں نے کام کرنا چھوڑ دیا محکمہ صحت سبی کی تصدیق ہنگامی بنیادوں پرآس پاس موجود خانہ بدوش خاندانوں کے بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانے کا سلسلہ شروع کردیاگیاہے ۔تفصیلات کے مطابق سبی کے نواحی علاقہ میں پشین سے تعلق رکھنے والے خانہ بدوش خاندان کے محمد خالد ولد محمد انور جس کی عمرسات ماہ ہے پولیو وائر س کا شکار ہوگا محکمہ صحت کے ایم ای آفیسر محمد شعیب کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے پولیو کے خاتمہ کے لئے ہنگامی طور پر انسداد پولیو مہم میں خانہ بدوش کی والدہ کی کوتاہی و لاپرائی کی بنا پر معصوم بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم ہوا کچھ دنوں پہلے محمد خالد نامی بچہ بیمارہوا جس کے علاج معالجے کے لئے کوئٹہ لے جایا گیا جہاں پر ڈاکٹرز نے اس کے اسٹول وغیرہ کے ٹیسٹ اسلام آباد بھیجے جہاں سے تصدیق ہوئی کہ اس بچے کو پولیو کا وائرس لاحق ہوچکا ہے مذکورہ بچہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ میرے آٹھ بچے ہیں سات بچے باقاعدگی کے ساتھ پولیو کے قطرے پیتے ہیں مگر جب پولیو ٹیمیں میرے گھر آئیں تو میں اپنے بچہ ہے ہمراہ قریبی جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گئی جس کی وجہ سے بچہ پولیو سے بچا کے قطرے پینے سے محروم ہوا آج میں انتہائی افسوس کرتی ہوں کہ میرا معصوم پھول جیسا بچہ پولیو کے وائرس کا شکار ہوکر زندگی بھر کے لئے معذور ہوگیا ہے انہوں نے بلوچستان سمیت ملک بھر کے والدین سے التجا کہ کہ وہ اپنے معصوم بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے ضرور پلائیں سبی کے نواحی علاقہ میں پولیو کے شکار بچہ کے باعث محکمہ صحت سبی نے ہنگامی بنیادوں پر آس پاس کے علاقوں میں پولیو سے بچا کے قطرے پلانے کی مہم شروع کردی واضح رہے کہ پشین کے علاقہ سے سردی کے موسم میں خانہ بدوش خاندان سبی وگردنواح میں آباد ہوتے ہیں مذکورہ خاندان بھی سردیوں کے باعث سبی کے نواحی علاقہ مرغزانی بھٹے کے قریب آباد ہیں۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں