کورونا وائرس :پاک ایران بارڈرتیسرے روز بھی بند

کوئٹہ :کورونا وائرس کے خدشہ کے پیش نظر تفتان میں پاک ایران بارڈرتیسرے روز بھی بند ہے بلکہ ایران سے پاکستان میں گزشتہ دنوں داخل ہونے والے زائرین سمیت 270 افراد کو2ہفتوں کیلئے طبی نگرانی میں رکھنے کیلئے پاکستان ہائوس میں منتقل کردیاگیاہے ،دوسری جانب حکومت بلوچستان نے ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان میں کوروناوائرس پھیلنے کے بعد وفاقی حکومت اور عالمی اداروں سے مہلک مرض کے پھیلائو کو روکنے اور اس سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات میں مدد مانگی ہے ۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہاگیاہے کہ ایران میں پھنسے ہوئے ڈرائیورز اور تاجروں کو فوری طورپر واپس لانے کیلئے حکومت اقدامات کریں ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان میں کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد نہ صرف بلوچستان میں ایمرجنسی ڈکلیئر کی گئی ہے بلکہ حکومت بلوچستان نے وفاقی حکومت اور عالمی اداروں سے مہلک مرض کے پھیلائو کو روکنے کے حوالے سے مدد طلب کی ہے ۔حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایاہے کہ ایران سرحدکو مکمل طورپر بند کردیاگیاہے کیونکہ ایران میں وائرس کی تیزی سے پھیلنے کی ہمیں اطلاعات مل رہی ہیں بلکہ وہاں ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہواہے جبکہ افغانستان میں اس وقت صورتحال اتنی خراب نہیں لیکن اس کے باوجود بھی حفاظتی اقدامات کے طورپر ایک میڈیکل ٹیم کو افغان سرحد بھجوادیاگیاہے تاکہ آنے والے افراد کی اسکریننگ ودیگر کی جاسکے اگر افغانستان میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا تو افغان سرحدی پر بھی آمدورفت کوروکنے کیلئے اقدامات کئے جائیںگے،دوسری جانب بتایاجارہاہے کہ وفاقی ادارہ صحت کی جانب سے بھیجی گئی ٹیم کوئٹہ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر تفتان پہنچادی گی ہے جو طبی عملے کو تربیت سمیت دیگر امور انجام دے گی ،حکومت بلوچستان نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے وفاقی حکومت سے ماہرین اور طبی آلات طلب کئے ہیں بلکہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ڈونرز سے مزید تھرمل گنز ماسک ودیگر طلب کی ہیں دوسری جانب تفتان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز زائری سمیت 270افراد کو پاکستان ہائوس منتقل کردیاگیاہے جو ایران سے پاکستان میں گزشتہ دنوں داخل ہوئے تھے یا وہ یہاں سے ایران جانا چاہتے تھے ،مذکورہ افراد کو دو ہفتے تک طبی نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیاگیاہے پاکستان ہائوس میں قرنطینہ مرکز بنادیاگیاہے جہاں مشتبہ مریض کو رکھاجائے گا۔اس کے علاوہ قریبی علاقے میں بھی آئیسولیشن وارڈ بنا دی گئی ہے ۔ڈی جی ہیلتھ سروسز بلوچستان شاکر بلوچ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے نیشنل انسٹیٹویٹ آف ہیلتھ کے ڈاکٹروں کی ٹیم کوئٹہ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے تفتان پہنچ گئی ہے۔ یہ ڈاکٹرز تفتان میں موجود باقی ڈاکٹرز اور میڈیکل ٹیم کو کرونا وائرس سے نمٹنے کی تربیت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، ڈبلیو ایچ او اور یونیسف سے تھرمل گنز، ماسک ، دستانے اور لیبارٹری کٹس کی فراہمی کی درخواست کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق ایران سے آنے والے پاکستانیوں کو تفتان میں زائرین کی رہائش کیلئے بنائے گئے پاکستان ہاس میں رکھا جائے گا جسے کوارنٹین مرکز کا درجہ دے دیا گیا ہے جبکہ تفتان کے بیسک ہیلتھ یونٹ کو آئسولیشن وارڈ بنادیا گیا ہے۔ مشتبہ مریضوں کو آئسولیشن وارڈ میں رکھا جائے گا۔حکام کے مطابق تفتان میں موجود ایرانی ڈرائیوروں کی ایک بڑی تعداد واپس ایران جانے کے منتظر ہیں، جنہیں تاحال واپس ایران جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ ڈرائیورز ایران سے ایل پی جی گیس اور کنٹینرز اور ٹرکوں میں تجارتی سامان لیکر پاکستان آنے تھے۔ ذرائع کے مطابق تفتان سے ملحقہ ایرانی حدود میں میرجاوہ کے مقام پر سرحد بند ہونے کی وجہ سے کئی پاکستانی سرحد پار پھنسے ہوئے ہیں۔دوسری جانب گزشتہ روز صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو ایک روزہ دورے پر تفتان پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے کورونا وائرس سے بچائو اور حفاظتی اقدامات کاجائزہ لیا،صوبائی وزیر داخلہ کو اسسٹنٹ کمشنر تفتان ،محکمہ صحت اور پی ڈی ایم اے حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی اور بتایاگیاکہ کورنٹائن کیلئے تفتان میں جگہ کا تعین کیاجارہاہے بارڈر کھولنے کے بعد سب سے بڑا چیلنج ایران سے بلوچستان آنے والے افراد کو کنٹرول کرناہے ۔انہوں نے بتایاکہ اس وقت پاکستان ہائوس میں 273افراد کو رکھاگیاہے ۔دوسری جانب مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے ترجمان اللہ داد ترین نے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور متعلقہ حکام کی توجہ تفتان بارڈر پر پھنسے مسافروں کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہاہے کہ ان مسافروں میں تیس سے چالیس افراد تاجر ہیں جن میں ان کے ساتھ کچھ ڈرائیور بھی ہیں تاجروں اور ڈرائیوروں کا تعلق بلوچستان سے ہے میں ان سے مسلسل رابطے میں ہوں ابھی بھی ان سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بتا یا کہ ہم چار دن سے یہاں بے یار مددگار پڑے ہوئے ہیں ہم میں سے کوئی شخص بیمار نہیں ایرانی ڈاکٹروں کی ٹیم نے بھی ھمیں کلئیر قرار دیا ھے البتہ وقت گذرنے کے ساتھ ایران سے آنے والے زائرین میں اضافہ ھورھا ھے ھم ان سے چند کلومیٹر دور میر جاوا کی طرف چلے گئے ھیں اب تک ھم نے اپنے آپ کو بچا کر رکھا ھوا ھے اگر حکومت نے ھمیں راستہ دینے میں دیر کی تو ھوسکتا ھے ان میں سے کسی متاثرہ شخص کیوجہ ھم بیمار پڑسکتے ھیںترجمان نے اپنے بیان میں تاجروں اور ڈرائیورز کو ترجیحی بنیادوں پر لانے کا مطالبہ کیا ھے اور تمام سیاسی مذھبی پارٹیوں کی.توجہ اس اھم انسانی مسلئے کی جانب مبذول کراتے ھوئے ان سے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔واضح رہے کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ 9سو کلومیٹر جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ ڈھائی ہزار کلو میٹر طویل سرحدات ہیں دونوں ہمسایہ ممالک میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان میں اس وائرس کی منتقلی کو روکنے کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے ۔دوسری جانب ایران کے ساتھ بارڈر بندش کے باعث امپورٹ ایکسپورٹ مکمل طورپر رک چکاہے جس سے بلوچستان میں مختلف اشیاء اور خاص کر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بھی خدشات پیدا ہوچکے ہیں ۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں