حکومت نے بلوچستان کی ترقی پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے

کوئٹہ : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت نے بلوچستان کی ترقی پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، سی پیک اور ترقیاتی منصوبوں سے بلوچستان میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے، پوری قوم نے متحد ہو کر دہشت گردوں کے مذموم مقاصد ناکام بنا دیئے ہیں، پاکستان پر امن ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، ملک کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں تاہم جعلی خبروں کے ذریعے مایوسی پھیلائی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سبی کے تاریخی میلہ 2020ءکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن کی دھرتی ہے، یہاں کے لوگ محب وطن ہیں، سبی ایک تاریخی شہر ہے، مجھے فخر ہے کہ میں آج بحیثیت صدر پاکستان سبی تاریخی میلے کا افتتاح کر رہا ہوں، یہ وہ تاریخی میلہ ہے جس کی تقریبات میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں ساحل بھی ہے، یہاں کاروبار کے وسیع مواقع بھی ہیں، ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات لینے کی ضرورت ہے، ماضی کی غلطیوں کو دور کرنا ہو گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے پاکستان ترقی کرے گا اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو پہنچے گا، یہاں پر اقتصادی زونز بنیں گے اور گوادر دنیا کے نقشے پر ایک نیا ترقی یافتہ خطہ بن کر ابھرے گا، گوادر میں سی پورٹ، ایئرپورٹ، آئل ریفائنری، اہم شاہراہیں اور جدید دور کے ہسپتال بننے سے یہاں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے، غربت کا خاتمہ ہوگا اور لوگ خوشحال ہوں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان دہشت گردی کے واقعات سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، یہاں کے لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں لیکن پوری قوم نے متحد ہو کر دہشت گردوں کے مذموم مقاصد ناکام بنا دیئے ہیں اور دہشت گردی کا ناسور آخری سانسیں لے رہا ہے، سیکورٹی فورسز نے جانوں کے نذرانے پیش کرکے ملک کو امن کا گہوارا بنایا ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ محکمہ لائیو سٹاک اور زراعت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے ، ان دو شعبوں کی فعالیت سے غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے، لائیو سٹاک کا شعبہ سنت نبوی بھی ہے، وفاقی حکومت ان شعبوں میں صوبائی حکومت کی ہر ممکن معاونت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں طویل ساحلی پٹی ہونے کے باعث ماہی گیری کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں جس سے بھر پور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پچھلے سالوں میں بلوچستان میں پانی کا بہت مسئلہ تھا لیکن اللہ کے فضل سے اس سال بلوچستان سمیت ملک بھر میں بارشیں ہوئیں اور یہاں پانی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوا ہے تاہم اب بھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے، ہمیں پانی ذخیرہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے ڈیم بنانے ہوں گے۔ اس سلسلہ میں حکومت بھرپور توجہ دے رہی ہے تاکہ آنے والے وقتوں میں پانی کے مسائل نہ ہوں۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں