ڈیبی ابراہمز آزاد کشمیر پہنچ گئی

برطانیہ میں کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کی چیئرپرسن ڈیبی ابراہمز آزاد کشمیر پہنچ گئی
دہلی ایئرپورٹ پر ڈیبی ابراہمز کے ساتھ ناروا سلوک کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔ صدر آزاد کشمیر
آزاد کشمیر کو برطانوی وفد کے کے لیے کھول دیا ہے دنیا سے چھپانے کے لیے کچھ نہیں ۔ مسعود خان
مظفرآباد ( )برطانوی پارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کی سربراہ ڈیبی ابراہمز تیرہ رکنی پارلیمانی وفد کے ہمراہ آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد پہنچ گئی ہیں ۔ ایوان صدر مظفرآباد آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیبی ابراہمز اور اُن کے وفد کے ارکان نے کہا کہ وہ اور اُن کاوفد کشمیر کی موجودہ صورتحال کو اُس کے صحیح تناظر میں سمجھنے کے لیے لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کا دورہ کرنا چا ہتا تھا لیکن بد قسمتی سے بھارتی حکومت نے اُنہیں اپنے زیر قبضہ کشمیر کے حصہ میں جانے سے روک دیا ۔ اب کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کا وفد آزاد کشمیر کا دورہ کر رہا ہے جہاں اُنہوں نے اپنے وفد کے ہمراہ آزاد کشمیر کے صدر ا ور وزیراعظم سے ملاقات کی ہے اور اگلے چند روز میں وہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات کر کے صحیح صورتحال معلوم کریں گے اور دنیا کو آگاہ کریں گے ۔ ڈیبی ابراہمز نے کہا کہ ہم کشمیر میں جاری انسانی بحران اور انسانی المیہ کا جلد خاتمہ چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے برطانیہ کی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنی کوششیں جاری رکھیں گے ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہم برطانیہ کی پارلیمنٹ میں قائم کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کو آزاد کشمیر کا دورہ کرنے پر خوش آمدید کہتے ہیں اور اُن کی آمد پر ہم نے آزاد کشمیر کا سارا علاقہ اُن کے لیے کھول دیا ہے ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کے برعکس آزاد کشمیر کے شہریوں کو تمام بنیادی انسانی حقوق اور شخصی آزادیاں حاصل ہیں۔آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کی طرح نہ تو نو لاکھ قابض فوج ہے اور نہ ہی یہاں پر کوئی نظر بندی کیمپ ہے آزاد کشمیر کے لوگ آزادی کی فضا میں اپنی معاشی ترقی کے لیے امن کا قیام چاہتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ سات دہائیوں سے تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیریوں کی خواہشات اور اُمنگوں کے مطابق سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے ۔ صدر آزاد کشمیر نے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کی سربراہ ڈیبی ابراہمز کے ساتھ نئی دہلی کے ایئرپورٹ پر ناروا سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں تو اُنہوں نے برطانوی ممبر پارلیمنٹ کو مقبوضہ کشمیر جانے سے کیوں روکا ہے ۔ صدر آزاد کشمیر نے کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس گروپ نے جس میں برطانیہ کی تمام اہم پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے نے 2018 میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ایک جامع رپورٹ شائع کی اور بعد میں پانچ اگست کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کرائی جس کے لیے ہم ڈیبی ابراہمز اور تمام اُن ارکان پارلیمنٹ کے شکر گزار ہیں جو کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کا حصہ ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے تعصب اور سخت ترین مخالفت کے باوجود برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے پر ہم ڈیبی ابراہمز اور اُن کے تمام ساتھیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کے رہنما اور کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کے نائب صدر عمران حسین نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی کوشش کی لیکن بھارتی حکومت نے ہمیں مقبوضہ کشمیر میں جانے سے روک دیا اور ابھی ایک بار پھر ہماری کوشش کے باوجود بھارتی حکومت نے اپنے زیر انتظام کشمیر کے حصے کا دورہ کرنے سے ہمیں روک دیا ہے جس کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں ہم بھارت سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر بھارت کچھ چھپا نہیں رہا ہے تو وہ برطانوی پارلیمانی وفد کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دے رہا ہے ۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت فی الفور مقبوضہ کشمیر میں نافذکالے قوانین ختم کرے کشمیرسے محاصرہ اور کرفیو اُٹھائے اور کشمیریوں کے تمام بنیادی اور شہری حقوق بحال کرے ۔ عمران حسین نے مذید کہا کہ انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اب آزاد کشمیر کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کی اور کشمیر کے بارے میں آگاہی حاصل کی ہم چاہتے تھے کہ اسی طرح کی ملاقاتیں لائن آف کنٹرول کے دوسر ی جانب بھی اس طرح کی ملاقاتیں کر کے تنازعہ کشمیر اور وہاں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے لیکن بھارتی حکومت نے ہمیں ایسا کرنے سے روک دیا ۔اُنہو ں نے کہا کہ انسانی حقوق کا معاملہ کسی ملک کا اندرونی یا دو طرفہ معاملہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس پر ہم اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ظلم و جبر اور نا انصافی کا شکار مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا ۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں