ملائشیا ء آزاد کشمیر میں طبی مرکز قائم کرے گا، صدر آزادکشمیر

ملائشیا ء آزاد کشمیر میں طبی مرکز ، کلچرل سنٹر اور ملائشیا کشمیر وویمن کولیشن قائم کرے گا، صدر آزادکشمیر۔
کشمیریوں کو ملائشیاء کی شکل میں ایک موثر اور توانا آواز مل گئی ہے، مہاتیر محمد کے شکر گزار ہیں۔
عالم اسلام کشمیریوں کی نسل کشی بند کرانے، حق خودا رادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرے، ماپیم ہیڈ کوارٹر میں خطاب۔
کوالالمپور:ملائشیاء آزادکشمیر میں طبی سہولتوں کی بہتری میں تعاون کی غرض سے مظفرآباد میں ایمبولینس سنٹر کے قیام کے علاوہ ملائشیاء کشمیر کلچرل مرکز اور ملائشیاء اور کشمیر کی خواتین کے مابین بہتر تعلقات قائم کرنے کے لئے ملائشیا، وویمن کولیشن قائم کرے گا تاکہ دونوں خطوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لا کر باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ یہ بات آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان کو ملائشیاء مشاورتی کونسل برائے اسلامک آرگنائزین (ماپیم) کے صدر دفتر کے دورے کے موقع پر بریفنگ کے دوران بتائی گئی۔ صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان جب ملائشیاء کی مختلف این جی اوز کے اتحاد کے صدر دفتر میں پہنچے تو ماپیم کے صدر محمد عظمی عبدالحمید، گلوبل کولیشن فار القُدس و فلسطین کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عدلونی ، داتوک طاہر محمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ بعد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے ملائشیاء مشاورتی کونسل برائے اسلامک آرگنائزیشن کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ملائشیاء اور دیگر علاقائی ممالک میں آگاہی پھیلانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم امن وخوشحالی کے لئے پوری دنیا میں شاندار خدمات انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماپیم اپنے پروگرام اور مشن کی بدولت دنیا کی معتبر آواز بن چکی ہے جس کے لئے تنظیم کے سربراہ عظمی عبدالحمید اور دیگر ذمہ داران کو خراج تحسین اور مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماپیم نے کشمیریوں اور ملائشیا کے عوام کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے میں ایک پل اور دروازے کا کردار ادا کیا جس کے لئے ہم اس تنظیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کی وجہ سے ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض فوج کشمیریوں کو آنکھوں کی بصارت سے محروم اور نوجوانوں پر تشدد کر کے انہیں زندگی بھر کے لئے معذور بنا رہی ہے جبکہ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے اپنی کالونی میں بدل دیا ہے اور اب ریاست کی قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لا کر مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے غیر کشمیری ہندوئوں کو لا کر کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے تاکہ آبادی کے تناسب کو یکسر تبدیل کر دیا جائے۔ بھارت کے یہ تمام اقدامات کشمیریوں کی نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں جو عالمی قوانین کے تحت ایک جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی حالت زار پر اب دنیا میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور ان آوازوں میں ملائشیاء کی آواز سب سے توانا ہے جس کے لئے ہم ملائشیاء کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائشیاء کے وزیر اعظم نے پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کی جس انداز میں مذمت کی اس سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کی طرف سے کشمیریوں کی نسل کشی پر اگرچہ دنیا بھر میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں لیکن بعض بااثر ممالک اب بھی خاموش ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قابض استعمار دھوکے اورفریب سے کشمیریوں کی جائز اور انصاف پر مبنی جدوجہد کو دہشت گردی کی تحریک اور حریت پسندوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کر رہا ہے۔ تقریب میں شریک ترک مندوبین کی طرف سے پوچھے گے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ترکی کے عوام اور حکومت مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے متحرک کردار ادا کررہے ہیں اور ترکی کی حکومت نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت میں موثر اور جاندار موقف اختیار کیا جس پر ہم ترکی کی حکومت اور عوام کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ کی دنیا کی اہم پارلیمانز بھی کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کررہی ہیں لیکن بدقسمتی سے دنیا کے اہم دارلحکومت پر اسرار طور پر خاموش ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گلوبل کولیشن فار القدس و فلسطین کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد عدلونی نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل میں باہم گہری مماثلت ہے کیونکہ دونوں خطوں کے عوام اپنی سرزمین کو غیر ملکی طاقت سے آزاد کرانے کے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مسلم امہ سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر کشمیر اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کا ساتھ دیں اور دونوں خطوں میں امن کے قیام اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو ختم کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ قبل ازیں صدر آزادکشمیر نے عظمی عبدالحمید کی قیادت میں قائم ماپیم کے صدر دفتر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا جہاں انہیں تنظیم کی خدمات اور کامیابیوں کے بارے میں تفصیل سے بریفنگ دی گئی۔#




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں