کشمیریوں کی نسل کشی اور ان کی زمین پر جابرانہ قبضے کو روکا جائے،صدر مسعود کی برطانوی پارلیمنٹرین سے اپیل

کشمیریوں کی نسل کشی اور ان کی زمین پر جابرانہ قبضے کو روکا جائے، صدر مسعود کی برطانوی پارلیمنٹرین سے اپیل
لندن( ) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے برطانوی پارلیمان سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرف سے کی جانے والی کشمیریوں کی نسل کشی کو رکوائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میںمنعقدہ ایک کشمیری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں چالیس سے زیادہ پارلیمنٹ کے ممبران شامل تھے اور اس کے علاوہ تارکین وطن کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ ہائوس آف کامنز کے زیر اہتمام کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اور اس کی صدارت پال بریسٹوب کنزرویٹوممبر پارلیمنٹ نے کیا۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر صدر آزادکشمیر نے کہا کہ برطانوی پارلیمان جو کہ دنیا کے تمام پارلیمانوں کی ماں ہے انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ایسے موقع پر جبکہ بریکسٹ ترمیم منظور ہو چکی ہے اور حال ہی میں برطانیہ میں الیکشن ہو چکے ہیں ۔انہوں نے ممبران پارلیمنٹ سے درخواست کی کہ جیساکہ گزشتہ سال پانچ اگست کے غیر قانونی ہندوستانی اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر کو بین ا لاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں ہماری مدد کی ہمیں مزید آپ کی مدد چاہیے ہو گی۔ صدر مسعودنے تارکین وطن کے باالخصوص نوجوانوں کا اور فہیم کیانی کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے ہندوستانی قبضے اور مظالم کے خلاف برطانیہ میں بہت ساری کامیاب ریلیوں کا انعقاد کیا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانیت کے خلاف ہندوستان کے ظلم اور جبر کا ذکر کرتے ہوئے صدر مسعود نے سامعین کو بتایا کہ ہندوستان بڑے پیمانے پرAuschwitz جیسے عقوبت خانوں کو دوبارہ تخلیق کرنا چاہتا ہے جبکہ دنیا کی طاقتور اقوام ایک ایسی سلطنت کی خوشامد میں لگے ہوئے ہیں جو فاشزم کا بھیانک پرچار اور نفاذ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست 2019کو ہندوستان نے دوبارہ نہ صرف کشمیر پر حملہ کیا اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور یہ سب وہاں کی لوگوں کی منشاء کے خلاف کیا گیا اور ہندوستان اب کشمیریوں کے مکمل خاتمے کی تیاری کر رہا ہے اور ان کی زمین کو مختلف غیر قانونی آبادکاریوں کے ذریعے اور ہندوئوں کو ہندوستان سے لا کر آباد کرنے کے بعد کشمیریوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر نا چاہتا ہے۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کے ہاتھوں سینکڑوں لوگوں کو قتل کیا جا چکا ہے اور ہزاروں نوجوان لڑکوں کو اغوا کر لیا گیا ہے اور انہیں مختلف عقوبت خانوں میں منتقل کیا گیا ہے اور خواتین کی آبرو ریزی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی افواج کے بلیک کیٹ کمانڈوز نے اپنے چھاپوں کے دوران پیلٹ گنز ، خودکارہتھیار، موٹرز اور کیمیائی ہتھیاروں، گرنیڈز اور راکٹس کا استعمال کیا۔ یہ جنگ نہتے کشمیریوں کے خلاف کی جارہی ہے اور قابض افواج لائیو ایمونیشن کا استعمال کرتے ہیں۔ صدر مسعود خان نے سابق ہندوستانی وزیر خزانہ چدہم برہم کے حالیہ بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا جس میں وزیر نے کہا تھا کہ پیسہ آزادی کا نعم البدل نہیں ہے ۔ چدہم برہم نے مقبوضہ خطے کے لئے ہندوستان کی طرف سے مختص بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ جموں وکشمیر اور لداخ کے لوگ آزادی چاہتے ہیں۔ وہاں کے لوگ انسانی حقوق کی بحالی چاہتے ہیں اور صرف ایک آزاد معاشرہ جس میں لوگ آزادانہ سانس لے سکیں وہی تعمیر و ترقی کے عمل سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ اگر وہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ پیسے کے ذریعے آزادی کو چھین لیں گے تو یہ سراسر غلط ہے۔ صدر مسعود نے یو ایس بیسڈ جینو سائیڈ واچ کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم نے بھی ہندوستان کو کشمیر پالیسی پرمتنبع کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ ہندوستان مختلف مرحلوں میں جس میں علامتی اقدامات، غیر انسانی طرز عمل اور نو لاکھ افواج کی تعیناتی اور انتشار شامل ہے۔ اس کے بعد اب نسل کشی ساتویں اور آٹھویں مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جس میں کشمیریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے اقدامات کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان من گھڑت بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے کہ وہ کشمیر کے فائنل سولوشن کی بات کر رہا اور کشمیر میں خوشحالی اور نارمل صورتحال کا ذکر کر رہا ہے۔ ہندوستان کا یہ بیانیہ حقائق کے مترادف ہے اور یہ زمینی حقائق سے چشم پوشی ہے۔ یہ اب اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کی اس ممکنہ نسل کشی کو روکے اور ہندوستان کو یہ قتل عام کرنے کی قطعاً اجازت نہ دے۔ صدر نے برطانوی پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو متحرک کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور ہندوستان کے جنگی جنون کو جس نے پورے خطے اور دنیا کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے اسے روکے۔ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹرین سے کہا کہ وہ بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال پر بالخصوص پانچ اگست 2019کے بعد کے اقدامات کے بعد تازہ رپورٹ جاری کریں۔ اور آل پارٹیز پارلیمنٹری کشمیر گروپ کے بینر کے نیچے کشمیر پر تازہ مباحثے کا اہتمام کریں اور برطانوی وزیر اعظم کے سوال و جواب کے لئے مختص وقت کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو زیر بحث لائیں۔ اور اقوام متحدہ کی قیادت کو اپنے مراسلے ارسال کریں کہ وہ ہندوستان کو اس کھلے عام انسانی حقوق کی پامالیوں جس میں وہ خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ صدر مسعودنے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی قیادت میں موجودہ برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کے حوالے سے صورتحال کا نوٹس لے۔ باالخصوص جب کہ وہ ہندوستان کے ساتھ مختلف تجارتی معاہدے کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ کہ دنیا کو سنجیدگی کے ساتھ بھارت میں بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت کے خلاف بائیکاٹ، اپنی سرمایہ کاری کو روکنے اور مختلف پابندیاں لگانے کے لئے سنجیدہ غور و فکر کرنا چاہیے۔ صدر مسعود نے کہا کہ دنیا کی کئی طاقتور اقوام مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہیں ۔ شاید ان کے پیش نظر ایک ایسی جنگ متوقع ہو سکتی ہے جس کا اختتام نیوکلیئر ایکسچینج پر ختم ہو۔ جبکہ ہمارے بھی اسی طرح کے خدشات ہیں کہ اگر ہندوستان کے جنگی جنون کو لگام نہ دی گئی تو متوقع جنگ سے پوری دنیا متاثر ہو سکتی ہے۔ صدر نے کہا کہ فوری طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا اس قتل عام کو روکے اور جموں وکشمیر کے مسئلے کا حل نکالنے کے لئے سفارتی کاوشیں کرے۔ چونکہ یہ مسئلہ خطے میں بد امنی، انتشار اور تشدد کا باعث ہے۔ صدر نے کہا کہ کشمیری جو اس مسئلے کے اہم فریق ہیں انہیں بھی اس سفارتی عمل میں مرکزی حیثیت ملنی چاہیے تاکہ وہ اپنا حق خودارادیت حاصل کر سکیں۔ سردار مسعود نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کوئی ایکشن نہیں لیتی تو کشمیریوں کو دیوار کے ساتھ دھکیلا جا ئے گا اور پھر انہیں یہ مکمل حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنی زندگیوں، عزت، خواتین کی عزت، اپنے اور پڑوسیوں کے گھروں کو بچانے کے لئے کچھ بھی اقدامات کریں۔ صدر نے برطانیہ کی تمام سیاسی جماعتوں جس میں کنزرویٹو، لیبر، سکاٹش نیشنل پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کا شکریہ ادا کیا اور ان کی تعریف کی کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے مختلف سیاسی اور انسانی حقوق کے پہلوئوں پر کراس پارٹی اپروچ کے ساتھ حمایت کی۔ شام کو صدر آزادکشمیر نے ایک اور کشمیر کانفرنس سے خطاب کیا جس کا انعقاد برطانوی پارلیمنٹ میں راجہ نجابت چیئرمین جموں وکشمیر حق خودارادیت موومنٹ نے کیا تھا جس میں کثیر تعداد میں برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران نے شرکت کی اور اس موقع پر ہائوس آف کامن کے ڈپٹی سپیکر Rt. Hon.ڈیم وینٹر ٹن بھی موجود تھے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں